۱؎ لوگوں کے متعلق نیک گمان کرنا بدگمانی نہ کرنا یا اللہ تعالٰی کے متعلق اچھا گمان کرنا اس کی معافی کی امید رکھنا یہ دونوں احتمال درست ہیں۔
۲؎ اس فرمان عالی کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ اللہ کے ساتھ اچھا گمان اس سے امید وابستہ کرنا بھی عبادت میں سے ایک اچھی عبادت ہے۔دوسرے یہ کہ اللہ سے امید اچھی عبادت سے حاصل ہوتی ہے جو عبادت کرے گا اسے یہ امید نصیب ہوگی۔تیسرے یہ کہ عبادت کے ذریعہ اللہ سے اچھی امید رکھو،عبادت سے غافل رہ کر امیدیں باندھنا حماقت ہے جیسے کوئی جو بو کر گندم کاٹنے کی امید کرے۔چوتھے یہ کہ اللہ کے بندوں یعنی مسلمانوں سے اچھا گمان کرنا ان پر بدگمانی نہ کرنا یہ بھی اچھی عبادات میں سے ایک عبادت ہے اس فرمان کے اور بھی معنی ہوسکتے ہیں مثلًا یہ کہ مسلمانوں پر اچھا گمان اچھی عبادات سے حاصل ہوتا ہے جو عابد ہوگا وہ ہی نیک گمان ہوگا جو خود برا ہوگا دوسروں کو بھی برا ہی سمجھے گا۔