Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
871 - 975
حدیث نمبر 871
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم منبر پر چڑھے پھر بلند آواز سے ندا کی فرمایا اے ان لوگوں کے ٹولو جو اپنی زبان سے ایمان لائے ہو اور ان کے دل تک ایمان نہ پہنچا ۱؎ مسلمانوں کو نہ تو ایذا دو نہ انہیں عار دلاؤ نہ ان کے خفیہ عیوب ڈھونڈھو۲؎ کیونکہ جو اپنے مسلمان بھائی کے خفیہ عیوب کی تلاش کرے گا تو اللہ اس کے عیب ظاہر کردے گا اگرچہ اسکے گھر میں ہوں۳؎  اور اسے رسوا کردے گا اگرچہ وہ اپنی منزل میں کرے۔(ترمذی)
۱؎ یعنی اے منافقویہاں منافق سے مراد منافق اعتقادی ہے ممکن ہے کہ منافق عملی یا دونوں مراد ہوں۔مرقات نے فرمایا کہ اس میں یہاں فاسق بھی داخل ہے کیونکہ آگے جس عمل کا ذکر ہے وہ فساق ہی کرتے تھے۔

۲؎  یہ تینوں حرکتیں منافقین کرتے تھے جس سے مسلمانوں کو تکلیف ہو وہ کام کرنا حتی کہ راستہ میں کانٹا پتھر ڈال دینا کہ مسلمانوں کو لگے ان سے سخت کلامی کرنا،مسلمانوں کے وہ گناہ بیان کرنا جن سے وہ توبہ کرچکے ہوں بلکہ ان کی توبہ کا قرآن کریم میں اعلان ہوچکا ہے،مسلمانوں کے خفیہ عیوب کی تلاش میں رہنا بلکہ ان بے عیب صحابہ کرام کو عیب لگانا جن کی بے عیبی پر قرآن مجید گواہ ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ کو ستانا منافقوں کا کام ہے اس سے موجودہ روافض عبرت حاصل کریں بلکہ تا قیامت مسلمانوں کے ساتھ یہ برتاوے عملی منافقت ہے،بہتر ہے کہ اپنے عیوب کی تحقیق کرکے ان سے توبہ کرے۔

۳؎  یہ قانون قدرت ہے کہ جوکسی کو بلا وجہ بدنا م کرے گا قدرت اسے بدنام کردے گی مگر یہ حکم اس کے لیے ہے جو مسلمانوں کو بدنام کرنے کا عادی ہو۔کسی خفیہ سازشیں کرنے والے اور خفیہ بدمعاشی کے اڈے بتانے والے،خفیہ زنا،شراب خوری کے اکھاڑے بنانے والوں کی تحقیق کرکے انکو گرفتار کرانا بہت بڑا ثواب ہے کہ یہ عیوب جوئی نہیں بلکہ لوگوں کو برائی سے روکنا ہے۔کسی شاعر نے عیب جوئی کے متعلق خوب کہا شعر

لا تلتمس من مساوی الناس ما ستروا 	فیہتك اللہ سترا عن مساویکا

واذکر   محاسن      ما   فیہم    اذا    ذکروا 	ولا تعب  احدا   منھم   بما   فیکا
Flag Counter