۱؎ یہاں سرداری سے مراد کم خرچ ہونا قناعت کا باعث ہوتا ہے۔
۲؎ بعض تارکین دنیا صرف نمک سے روٹی کھالیتے ہیں ان کی دلیل یہ ہی حدیث پاک ہے۔مقصد یہ ہے کہ اگرچہ کھجور،شکر،گھی سے بھی روٹی کھائی جاسکتی ہے مگر نمک سے روٹی کھانامفید بھی ہے آسان بھی کہ نمک آسانی سے میسر ہوجاتا ہے۔خیال رہے کہ بعض لحاظ سے گوشت سالنوں کا سردار ہے،بعض لحاظ سے سرکہ اور بعض لحاظ سے نمک لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں گوشت یا سرکہ کو سالن کا سردار فرمایا گیا ہے۔جیسے بعض لحاظ سے حضرت فاطمہ تمام عورتوں کی سردار ہیں،بعض لحاظ سے حضرت عائشہ صدیقہ۔ چنانچہ طبرانی نے اوسط میں ابونعیم نے کتاب الطب میں روایت کی کہ دنیا میں سالن کا سردارگوشت ہے،پینے کی چیزوں میں سردار پانی ہے،خوشبوؤں میں سردار قباغیہ ہے۔(مرقات)کھانوں کی لذت نمک سے وابستہ ہے۔ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ تعجب ہے کہ زعفران مثقال سے فروخت ہوتا ہے اور نمک احمال (ڈھیروں) سے حالانکہ زعفران سے نمک اعلیٰ ہے۔