۱؎ آپ کا نام مالک ابن قیس مازنی ہے،بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک رہے،آپ کی کنیت ابو صرمہ ہے،آپ زمانہ جاہلیت میں بھی ملتِ ابراہیمی پر عبادت الٰہی کرتے تھے،بہت بڑی عمر میں اسلام لائے،آپ سے حضرت ابن عباس نے روایات لیں۔(مرقات و اشعہ)
۲؎ یعنی جو کسی مسلمان کو ابتداءً نقصان پہنچائے جانی یا مالی۔ابتداءً کی قید اس لیے لگائی کہ نقصان کے عوض نقصان پہنچانا سزا کے طور پر جائز ہے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا"۔
۳؎ یعنی جو کسی مسلمان سے دشمنی کرے گا رب تعالیٰ اسے مردودکرے گا۔دشمنی سے وہ ہی مراد کہ بلاوجہ شرعی مسلمان سے عداوت رکھنا۔شاق بنا ہے شق سے بمعنی کروٹ یا چہرہ کی مخالفت کو مشاقۃ اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں ہر شخص دوسرے سے منہ پھیر لیتا ہے اس سے آنکھیں نہیں ملاتا۔