۱؎ یعنی حسدوبغض ذریعہ بن جاتا نیکیوں کی بربادی کا یعنی حاسد ایسے کام کر بیٹھتا ہے جس سے نیکیاں ضبط ہو جاویں،حاسد و بغض والے کی نیکیاں محسود کو دے دی جائیں گی یہ خالی ہاتھ رہ جاوے گا۔خیال رہے کہ کفر و ارتداد کے سواء کوئی گناہ مؤمن کی نیکیاں برباد نہیں کرتا،ہاں نیکیوں سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں،رب فرماتا ہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ"۔(اشعہ)اس حدیث کی بناء پر معتزلہ نے کہا ہے کہ بعض گناہوں سے نیکیاں بھی مٹ جاتی ہیں مگر غلط کہا کیونکہ اس حدیث کا وہ مطلب ہے جو ہم نے عرض کیا اس حدیث کی اور بہت توجیہیں کی گئی ہیں۔(دیکھو مرقات)