Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
857 - 975
حدیث نمبر 857
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں ۱؎  تو ہر اس بندے کی بخشش کردی جاتی ہے جو کسی چیز کو اللہ  کا شریک نہ جانے سواء اس شخص کے جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت ہو ۲؎  تو کہا جاتا ہے کہ انہیں مہلت دو حتی کہ آپس میں صلح کرلیں ۳؎(مسلم)۴؎
شرح
۱؎ چونکہ جنت کے طبقے بہت ہیں ہر طبقہ کا علیٰحدہ  دروازہ ہے اس لیے ابواب جمع فرمایا گیا یا خود جنت ہی کے بہت دروازے ہیں جیساکہ دوسری روایت میں ہے۔جنت کے بعض دروازے وہ ہیں جو سال بھر تک ہر دو شنبہ و جمعہ کو کھلتے ہیں،بعض دروازے وہ ہیں جو ماہ رمضان میں کھلتے ہیں لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ ہر رمضان میں دو دروازے کھلتے ہیں یہ دروازے کھلنا عام رحمت و مغفرت کے لیے ہیں۔

۲؎ لایشرك باللہ سے مراد ہے مؤمن ہونا ورنہ جو مشرک نہ ہو مگر ہو کافر وہ بھی نہ بخشا جاوے گا،عداوت سے مراد دنیاوی دشمنی ہے۔

۳؎  ظاہر یہ ہے کہ ان دونوں شخصوں کی مغفرت صلح پر موقو ف ہے جب کہ ان میں سے کسی نے صلح کی کوشش نہ کی لیکن اگر ایک نے تو صلح کی کوشش کی مگر دوسرا راضی نہ ہوا ہو تو اس دوسرے کو نہ بخشا جاوے گا اس میں تمام وہ قیود یاد رکھو جو ابھی پہلے عرض کی جاچکی ہیں۔

۴؎  یہ حدیث بخاری نے اپنی کتاب ادب المفرد میں اور ابوداؤد ترمذی نے بھی ان ہی سے روایت فرمائی۔(مرقات)
Flag Counter