Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
856 - 975
حدیث نمبر 856
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ ۱؎ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے ۲؎  اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو ۳؎  اور نہ بخش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کرو۴؎ نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے اللہ کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ ۵؎  اور ایک روایت میں ہے اور نہ نفسانیت کرو ۶؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہاں ظن سے مراد مجتہدین علماء کا قیاس نہیں بلکہ بلا دلیل بلا ثبوت مسلمان بھائی کے متعلق بدگمانی کرلینا ہے کہ خواہ مخواہ کسی کو اپنا دشمن سمجھ لینا،اس کے ہر قول ہر کام کو اپنی دشمنی قرار دے دینا یہ برا ہے کہ یہ لڑائی فساد کی جڑ ہے،بعض عورتوں کو بلاوجہ شبہ ہوتا ہے کہ فلاں نے مجھ پر جادو کرایا ہے اگرگھر میں کسی کو اتفاقًا بخار آگیا یا جانور نے دودھ کم دیا تو اپنے پڑوسیوں پر جادو تعویذ گنڈے کی بدگمانی کرکے دل میں گرہ رکھ لی یہ ممنوع ہے۔

۲؎  کیونکہ ایسی بدگمانیاں شیطان کی طرف سے ہوتی ہیں اور شیطان بڑا جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ بھی بڑے ہی ہوتے ہیں،قرآن کریم فرماتاہے:"اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ"وہ آیت کریمہ اس حدیث پاک کی تاکیدکرتی ہے۔

۳؎  تحس ح سے کسی کی باتیں خفیہ طور پر سننا کہ اسے خبر نہ ہو۔تجسّس جیم سے کسی کے خفیہ عیب کی تلاش میں رہنا حس اور جس میں اور بھی چند طرح فرق کیا گیا ہے۔غرضکہ کسی کی ہر بات پر کان لگائے رہنا،کسی کے ہر کام کی تلاش میں رہنا کہ کوئی برائی ملے تو میں اسے بدنام کردوں دونوں حرام ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ مبارک ہو کہ جسے اپنے عیبوں کی تلاش دوسروں کی عیب جوئی سے باز رکھے۔ (مرقات) یعنی وہ اپنے عیب ڈھونڈنے میں ان سے توبہ کرنے میں ایسا مشغول ہو کہ اسے دوسروں کے عیب ڈھونڈنے کا وقت ہی نہ ملے۔

نہ تھی اپنے جو عیبوں کی ہم کو خبر 	رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر

پڑی   اپنی    برائیوں  پر  جو      نظر	تو  جہاں   میں  کوئی  برا  نہ    رہا

۴؎  تناجش بنا ہے نجش سے،نجش کے چند معنی ہیں: دوسروں پر اپنی بڑائی چاہنا،دھوکا دینا،نیلام میں قیمت بڑھا دینا خریدنے کی نیت نہ ہو یہ سب حرام ہے۔حسد کے معنی ہیں دوسرے کی نعمت کا زوال اپنے لیے اس کا حصول چاہنا کہ اس کے پاس نہ رہے میرے پاس آجائے یہ حرام ہے،شیطان کو حسد نے ہی مارا بغض دل میں کینہ رکھنا۔

۵؎  یعنی بدگمانی،حسد،بغض وغیرہ وہ چیزیں ہیں جن سے محبت ٹوٹتی ہے اور اسلامی بھائی چارہ محبت چاہتا ہے لہذا یہ عیوب چھوڑو تاکہ بھائی بھائی بن جاؤ۔

۶؎  تنافس کے بہت معنی ہیں: رغبت کرنا،لالچ کرنا،نفسانیت سے فساد پھیلانا یہاں بمعنی نفسانیت و فساد ہے۔
Flag Counter