۱؎ ناس سے مراد مسلمان ہیں اور جمعہ سے مراد ہفتہ ہے۔مرتین فرمایا تاکہ معلوم ہو کہ ایک دن میں دوبار پیشی نہیں ہوتی بلکہ ہر دن میں ایک بار یہ پیشی بارگاہِ الٰہی میں ہوتی ہے یا اس فرشتے کے سامنے جو لوگوں کے اعمال کا محافظ بنایا گیا ہے،پہلا احتمال زیادہ قوی ہے کیونکہ دوسری روایت میں اس کی تصریح ہے کہ بارگاہ الٰہی میں پیشی ہوتی ہے۔(مرقات)
۲؎ یفیئا بنا ہے فیئٌ سے بمعنی لوٹنا رجوع کرنا،رب تعالیٰ فرماتاہے:"تَفِیۡٓءَ اِلٰۤی اَمْرِ اللہِ"۔یہ ضرب کا مضارع تثنیہ ہے۔خیال رہے کہ لوگوں کے اعمال جمعہ کے دن حضرات انبیاءکرام بلکہ ماں باپ پر بھی پیش کیے جاتے ہیں،وہ حضرات ہماری نیکیاں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں گناہ دیکھ کر رنجیدہ اس لیے علماء فرماتے ہیں کہ گناہ کرکے اپنے مرے ہوئے ماں باپ کو نہ ستاؤ،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو دکھ نہ دو اس کا یہ مطلب ہے۔(مرقات)