| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
باب ما ینھی عنہ من التھاجر و التقاطع و اتباع العورات اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا ۱؎ چھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے ۲؎
الفصل الاول پہلی فصل
۱؎ تہاجر بنا ہے ھجر سے بمعنی چھوڑ دینا،تقاطع بنا ہے قطع سے بمعنی کاٹ دینا،اگر تہاجر کاٹ دینے کے معنی میں ہے تو والتقاطع کا عطف تفسیری ہے اور اگر الگ معنی میں ہے تو تہاجر خاص ہے اور تقاطع عام یعنی مسلمان بھائی سے تعلق چھوڑ دینا اور رشتہ داروں سے رشتہ کاٹ دینا۔ ۲؎ اتباع کے معنی ہیں پیچھے پڑ جانا یہاں مراد ہے تلاش میں لگے رہنا،عورت وہ چیز جس کا اظہار ناپسند ہو۔یہاں مراد ہے لوگوں کے چھپے عیوب یعنی مسلمانوں کے چھپے عیوب کی تلاش کرنا تاکہ انہیں ظاہر کرکے بدنام کیا جاوے یہ حرام ہے،چونکہ اس عیب جوئی سے بھی لوگوں میں عداوتیں پیدا ہوتی ہیں رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اس لیے ان دونوں کو ایک باب میں بیان کیا۔
حدیث نمبر 855
روایت ہے حضرت ابو ایوب انصاری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کسی شخص کو یہ حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین شب سے زیادہ چھوڑے رہے کہ جب دونوں ملیں تو یہ اس سے وہ اس سے منہ پھیرلے ۱؎ ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہاں چھوڑنے سے مراد دنیاوی رنجشوں کی وجہ سے ترک تعلق کرنا ہے،چونکہ تین دن کے عرصہ میں نفس کا جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے اس لیے تین دن کی قید لگائی گئی۔بدمذہب بے دین سے دائمی بائیکاٹ کرنا یا تعلیم و تربیت کے لیے ترک تعلق کرنا زیادہ کا بھی جائز ہے۔حضور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت کعب ابن مالک،بلال ابن امیہ،مرارہ ابن لوی رضی اللہ عنہم اجمعین کا پچاس دن رکھا،یہ بائیکاٹ ہجران نہ تھا بلکہ تعلیم تھی لہذا یہ حدیث حضرت کعب کی حدیث کے خلاف نہیں۔ ۲؎ یعنی اگر دنیاوی معاملات میں دو مسلمان لڑ پڑیں پھر ملیں تو بہتر وہ ہوگا جو اس کی ابتداءکرے۔یہاں کشیدگی دورکردینے کی ہدایت ہے کسی خطرناک آدمی سے محتاط رہنا اس کے خلاف نہیں۔تہاجر اور چیز ہے احتیاط دوسری چیز۔ابتداء بالسلام کرنے والے کو اس لیے خیر فرمایا کہ وہ تواضع کرتا ہے اللہ کے لیے وہ ہی ہجران دور کرتا ہے۔