Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
853 - 975
حدیث نمبر 853
روایت ہے حضرت ابو رزین سے ۱؎  ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں اس چیز کی اصل پر رہبری نہ کروں ۲؎ جس سے تم دنیا و آخرت کی بھلائی پالو تم ذکر والوں کی مجلس اختیار کرو ۳؎  اور جب تم تنہائی میں ہو تو جہاں تک کرسکو اپنی زبان اللہ کے ذکر میں ہلاتے رہو۴؎  اور اللہ کی راہ میں محبت کرو اور اللہ کی راہ میں عداوت کرو ۵؎  اے ابو رزین کیا تمہیں خبر ہے کہ کوئی شخص اپنے گھر سے اپنی بھائی کی ملاقات کے لیے نکلتا ہے تو اسے ستر ہزار فرشتے پہنچاتے ہیں ۶؎ وہ تمام اس کے لیے دعا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ الٰہی اس نے تیری راہ میں جوڑا ہے تو اسے جوڑ دے ۷؎ تو اگر کرسکو کہ اپنے جسم کو اس میں مشغول کرو تو ضرور کرو ۸؎
شرح
۱؎ آپ کا نام لقیط ابن عامر ابن صبرہ ہے،عقیلی ہیں،طائف کے رہنے والے تھے،مشہور صحابی ہیں،آپ سے حضرت عبداللہ ابن عمر وغیرہ حضرات نے روایات لیں۔(مرقات،اکمال)

۲؎  ملاک میم کے کسرہ سے وہ چیز جس پر کوئی چیز قائم ہو جیسے دل کہ اس پر جسم قائم ہے،اس کا ترجمہ اصل بہت مناسب ہے۔ھذا الامر سے مراد دین ہے یا دین و دنیا کی تمام خوبیاں دوسرے معنی یہاں زیادہ ظاہر ہیں جیساکہ الذی تصیب بہ الخ سے معلوم ہورہا ہے یعنی اے صحابہ! کیا ہم تم کو دین دنیا کی تمام خوبیوں کی اصل سب کی جڑ نہ تبادیں۔

۳؎  اس سے مراد علماء دین اولیاء کاملین صالحین و اصلین کی مجلسیں ہیں کیونکہ یہ مجلسیں جنت کے باغات ہیں جیساکہ دوسری حدیث شریف میں ہے یہ مجلسیں خواہ مدرسے ہوں یا درس قرآن و حدیث کی مجلسیں یا حضرات صوفیاء کرام کی ذکر کی محفلیں یہ فرمان بہت جامع ہے جس مجلس میں اللہ کا خوف حضور کا عشق اور اطاعت رسول کا شوق پیدا ہو وہ مجلس اکسیر ہے۔

۴؎  سبحان اللہ! انسان کی دو ہی حالتیں ہوتی ہیں: خلوت، جلوت اس فرمان عالی میں دونوں کی اصلاح فرمادی گئی۔جلوت ہو تو اللہ والوں کی صحبت میں،خلوت ہو تو اللہ تعالٰی کے ذکر میں۔بعض مشائخ نے اس فرمان عالی سے دلیل پکڑی کہ ذکر خفی افضل ہے ذکرجلی سے،بعض نے فرمایا کہ ذکر لسانی افضل ہے ذکر جنانی یا پاس انفاس سے کیوں کہ یہاں زبان ہلانے کا حکم دیا مگر انسان بھی مختلف ہیں حالات بھی مختلف،بعض حالات میں ذکر جلی افضل بعض وقت ذکر خفی افضل کون کہہ سکتا ہے کہ اذان اور حج کا تلبیہ،نماز جہر کی قراءت آہستہ کہی جائیں اور کون کہہ سکتا ہے کہ نماز تہجد اور نماز خفی میں قراءت جہر سے کی جاوے۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ ذکر وہ بہتر ہے کہ ذاکر ذکر میں فنا ہو اور مذکور سے باقی ہو "وَاذْکُرۡ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیۡتَ"سب کچھ بھول کر اپنے سے بھی غافل ہوکر رب کو یاد کرو۔ذکر جہری و خفی کی بحث ہماری کتاب جاء الحق میں دیکھو،یہاں مرقات کا مطالعہ کرو۔

۵؎  جو تمہیں اللہ کے ذکر پر مدد  دے  اس سے اللہ کے لیے محبت کرو اگرچہ وہ اجنبی ہو اور  جو تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل کردے  اس سے اللہ کے لیے نفرت کرو اگرچہ تمہارا عزیز ہو۔

۶؎ یعنی اسے اس شخص کے گھر تک پہنچاتے ہیں یہ پہنچانا عزت افزائی کے لیے ہوتا ہے اور یہ پہنچانا  دعا خیر کے ساتھ ہوتا ہے کہ اسے دعائیں دیتے جاتے اور ساتھ چلتے جاتے ہیں۔سبحان اللہ! ممکن ہے کہ اس میں صالحین کی قبور کی زیارت بھی داخل ہو کہ وہ بھی محض اللہ کے لیے کی جاتی ہے۔

۷؎  یعنی اس شخص نے تیری راہ میں اس سے رشتہ محبت جوڑا ہے تو اس کا اپنے رشتہ بندگی رشتہ اطاعت جوڑ لے کہ اسے اپنا خاص بندہ بنالے۔

۸؎  یعنی یہ عمل تھوڑا ہے مگر اس کے فائدے بہت لہذا اسے ہمیشہ کیا کرو۔بعض حضرات جب کسی مقبول بندے سے ملاقات کے لیے جاتے ہیں تو باوضو اور ذکر الٰہی کرتے جاتے ہیں،یہاں مرقات نے بروایت ابویعلی حضرت عائشہ سے مرفوعًا روایت کی کہ ایسا خفی ذکر جلی ذکر سے ستر درجہ افضل ہے۔
Flag Counter