۱؎ ہم مہجورین مشرق میں ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم مغرب میں اللہ تعالٰی حضور کا عشق دے تو ان شاءاللہ جنت بلکہ قیامت میں بھی حضور کا قرب نصیب ہوگا،آخرت کا قرب و بعد دنیا کے قلبی قرب وبعد کا نتیجہ ہوگا دعا ہے کہ مولیٰ۔شعر
زمانہ کی خوبی زمانہ کودے مجھے تیرے پیارے کا در چاہیے
بعض بدنصیب مدینہ میں رہ کر حضور سے دور ہیں بعض خوش نصیب مدینہ سے دور رہ کر بھی در حضور میں ہیں۔
۲؎ یہ ان محب و محبوبین کو قیامت اور جنت میں جمع فرما دینا اتفاقًا نہ ہوگا بلکہ یہ بتاکر جتاکر ہوگا کہ یہ قرب تیری اس محبت کا نتیجہ ہے۔معلوم ہوا کہ سارے اعمال سے زیادہ پیارا عمل محبوبوں سے محبت ہے کہ یہ ان کے قرب کا ذریعہ ہے۔خیال رہے کہ حضور سے محبت کی علامت یہ ہے کہ ان کے احکام،ان کے اعمال،ان کی سنتوں سے،ان کے قرآن،ان کے فرمان، ان کے مدینہ کی خاک سے محبت ہو،بے نماز بے روزہ بھنگی چرسی دعویٰ عشق رسول کریں جھوٹے ہیں محبت کی علامت اطاعت ہے۔