| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جب حضورصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ کھانے میں حاضر ہوتے تو اپنا ہاتھ نہ لگاتے حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پس رکھتے اپنا ہاتھ ۱؎ ایک بار حضور کے ساتھ کسی کھانے پر حاضر ہوئے تو ایک لڑکی آئی گویا وہ دھکیلی جارہی ہے۲؎ وہ اپنا ہاتھ کھانے میں لگانے لگی۳؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک بدوی آیا گویا دھکیلا جارہا ہے ۴؎ حضور نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ شیطان اپنے لیے کھانا حلال کرتا ہے اس سے کہ کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا جائے ۵؎ وہ اسے لایا تاکہ اس کے ذریعہ کھانا حلال کرے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر اس بدوی کو لایا کہ کھانا حلال کرے میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا ۶؎ اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ شیطان کا ہاتھ ان کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے ۷؎ ایک روایت میں ہے کہ پھربسم اللہ پڑھی اور کھایا ۸؎(مسلم)
شرح
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی بزرگ کے ساتھ دسترخوان پر حاضر ہو تو ان سے پہلے کھانا شرو ع نہ کرے کہ اس میں بے ادبی ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ سارے کھانے والے بالغ ہوں،ان میں ایک بزرگ باقی خدام لیکن اگر کھانے والے میں کوئی ناسمجھ بچہ بھی ہو تو وہ پہلے کھانا شرو ع کرسکتا ہے بلکہ اس کے ہاتھ پہلے دھلائے جائیں اور کھانا کھا چکنے پر اس کے ہاتھ پیچھے دھلائے جائیں کیونکہ بچے آہستہ آہستہ کھاتے ہیں،دیر تک کھاتے ہیں اور کھانا سامنے آنے پر زیادہ صبر نہیں کرسکتے۔یہ تمام احکام عالمگیری وغیرہ میں مطالعہ کرو۔ ۲؎ جاریہ سے مراد لونڈی نہیں بلکہ چھوٹی بچی ہے جو اتنی تیز دوڑتی آرہی تھی جیسےکسی نے اسے اس طرح دھکا دیا ہو،دھکا کھا کر انسان بہت تیزی سے گرتا ہے۔ ۳؎ یعنی ابھی ہم نے کھانے کو ہاتھ نہیں لگایا تھا اس نے پہلے ہی ہاتھ ڈالنا چاہا بغیر بسم اللہ پڑھے ہوئے درحقیقت اسے شیطان اسی طرح بھگائے ہوئے لارہا ہے۔ ۴؎ یہاں بھی یہی حال تھا کہ وہ بدوی صاحب بھی ان حضرات سے پہلے ہی بغیر بسم اللہ پڑھے ہوئے ہاتھ ڈالنا چاہتے تھے یہاں بھی شیطان ہی کا دھوکا تھا۔ ۵؎ یعنی اگر جماعت میں ایک آدمی بھی بغیر بسم اللہ کھانے لگے تو شیطان اس کھانے میں شریک ہوجاتا ہے تم سب کو بسم اللہ پڑھ کر کھاتے شیطان کو ساتھ کھانے کی جرأت نہ ہوتی اس لیے وہ آگے پیچھے ان دونوں کو لایا کہ یہ بغیر بسم اللہ کھائے اور ان کے ذریعہ شیطان بھی کھائے۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ بچے جو بسم اللہ پڑھ سکیں ضرور بسم اللہ پڑھ کر کھایا کریں ورنہ شیطان کھانے میں شریک ہوگا،ہاں بالکل بےسمجھ بچہ جوصحیح بول نہ سکے اس حکم سے علیحدہ ہے۔ ۶؎ تاکہ یوں دونوں میں سے کوئی بغیر بسم اللہ ہاتھ نہ ڈال سکے اور شیطان کو موقع نہ ملے اس کی کوشش بیکار جائے۔ ۷؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں ہے بیدھما اس تثنیہ ضمیر کا مرجع وہ لڑکی اور یہ بدوی دونوں ہیں یعنی ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ شیطان کا ہاتھ بھی میرے ہاتھ میں ہے۔اس نسخہ میں بیدھا ہے جس کا مرجع لڑکی ہے چونکہ پہلے وہ ہی آئی تھی اس لیے اس کا ذکر فرمایا۔اس سے معلوم ہوا جس کے ساتھ یا جس پر شیطان ہو اس کو پکڑ لینے سے وہ شیطان بھی پکڑا جاتا ہے۔بعض عاملین کو دیکھا گیا کہ وہ اس شخص کے بال یا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں جس پر شیطان سوار ہو اس سے خود شیطان قبضہ میں آجاتا ہے،اس عمل کا ماخذ یہ حدیث ہوسکتی ہے۔ ۸؎ ان دونوں نے بھی بسم اللہ پڑھ کر کھایا اور دوسرے حضرات نے بھی۔حضرات صوفیاء چشتیہ فرماتے ہیں کہ قوالی اہل کے لیے حلال ہے نا اہل کے لیے حرام،اگر مجمع میں ایک بھی نا اہل شریک ہوجائے تو سب کے لیے ممنوع کیونکہ ایک نا اہل کی شرکت سے شیطان شریک ہوجاتا ہے اور وہ کام شیطانی بن جاتا ہے،اس قول کا ماخذ یہ حدیث ہے کہ اگر کھانے والوں کو جماعت میں ایک شخص بھی بغیر بسم اللہ شریک ہوجائے تو شیطان شریک ہوجاتا ہے۔