Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
84 - 975
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 84
روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ مہمان ہوا ۲؎  تو آپ نے دستی کا حکم دیا وہ بھونی گئی پھر چھری لی پھر اس میں سے میرے لیے چھری سے کاٹنے لگے۳؎  پھر بلال حضور کو نماز کی اطلاع دینے آئے۴؎ تو آپ نے چھری ڈال دی فرمایا اسے کیا ہوا اس کے ہاتھ گرد آلود ہوں ۵؎ فرمایا ان کی مونچھیں بڑی تھیں ۶؎  تو مجھ سے فرمایا میں انہیں مسواک پر کتردوں یا تم مسواک پر کترلو ۷؎(ترمذی)
شرح
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،آپ کے حالات بارہا بیان ہوچکے،آپ خندق کے سال ایمان لائے،صلح حدیبیہ میں حاضر تھے،حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے گورنر رہے،بڑے مدبرنہایت عقلمند صاحب الرائے صحابی ہیں،رضی اللہ عنہ۔

۲؎  یعنی ایک شب میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کسی شخص کے گھر بطور مہمان تشریف لے گئے،یہ معنی نہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو مہمان اپنا بنایا جیساکہ بعض شارحین نے سمجھا،یہ پتہ نہیں کہ میزبان کون صحابی تھے۔

۳؎  یا تو صاحبِ خانہ نے اپنے خادم کو یہ حکم دیا یا حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے صاحبِ خانہ کو حکم دیا۔اگر میزبان سے بےتکلفی ہو تو مہمان اپنے پسندیدہ کھانوں کی فرمائش کرسکتا ہےکہ وہ گویا اس کا اپنا ہی گھر ہوتا ہے۔

۴؎  یہ حضور انور کی بندہ نوازی کی شان ہے کہ اپنے ہاتھ سے اپنے خدام کے لیے گوشت کاٹتے ہیں۔خیال رہے کہ سکین ہر چھری کو کہتے ہیں مگر شفرہ چوڑی اور پرانی چھری کو کہا جاتا ہے۔

۵؎  حضرت بلال ابن ابی رباح کی کنیت شریف ابو عبدالرحمن ہے،مزار پرانوار دمشق میں ہے،آپ نے اولاد کوئی نہ چھوڑی۔(مرقات)فقیر نے مزار مقدس پر حاضری دی ہے جس کا ذکر ہمارے سفر نامہ قبلتین میں ہے۔یہ اطلاع دینا علاوہ اذان کے تھا،حضرت بلال اذان کے بعد خصوصی طور پر نماز کے لیے حضور کی خدمت میں عرض کرتے تھے۔

۶؎ یعنی وقت نماز ابھی کافی ہے اور بلال جلدی کررہے ہیں،کھانا کھایا جارہا تھا کہ حضرت بلال نے نماز کے لیے عرض کیا۔عشاء کا وقت بڑا وسیع ہوتاہے اس زمانہ میں جماعت کے لیے گھنٹہ،منٹ مقرر نہ تھے۔

۷؎ کہ مونچھوں کے بال ہونٹ کے کنارہ سے آگے تھے۔یہاں ضمیر بجائے متکلم کے غائب ارشاد ہوئی جیسے ہم اپنے کو کہتے ہیں یہ گنہگار حاضر ہے اور ہوسکتا ہے کہ شاربہ کی ضمیر حضرت بلال کی طرف لوٹتی ہو یعنی جناب بلال کی مونچھیں بڑی تھیں۔

۸؎  یعنی یا تو ہم تمہاری مونچھوں کے بڑے بال مسواک پر رکھ کر کاٹ دیں یا تم خود ہی اس طرح ابھی کاٹ لو۔معلوم ہوا کہ حضور انور کو لمبی مونچھیں سخت ناپسند ہیں،ان سے ایسی نفرت ہے کہ گھر جاکر قینچی سے کاٹنے کی اجازت نہ دی بلکہ فرمایا ابھی کاٹ لو یا ہم خود کاٹ دیں،مسلمان اس سے عبرت پکڑیں۔خیال رہے کہ مونچھیں منڈانا بھی منع ہے اوربہت پست کرنا بھی منع   بلکہ  اتنی کاٹنا کہ ہونٹ کا کنارہ بھی بخوبی کھل جائے۔اخفاء شارب  کے یہ معنی ہیں اس سے مونچھیں پانی پیتے وقت پانی میں ڈوبتی نہیں۔(مرقات)اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔
Flag Counter