روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائیے ۱؎ فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ کون سا عمل اللہ تعالٰی کو زیادہ پسند ہے ۲؎ کسی کہنے والے نے کہا کہ نماز اور زکوۃ اور کسی کہنے والے نے کہا جہاد۳؎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی کو بہت پیاراعمل اللہ کی راہ میں محبت اور اللہ کی راہ میں عداوت ہے ۴؎(احمد)اور ابوداؤد نے آخری حصہ روایت کیا ۵؎
شرح
۱؎ اس طرح کہ ہم لوگ مسجد مبارک میں تھے حضور انور حجرہ مقدسہ میں،اچانک حجرہ اقدس سے مسجد میں ہمارے پاس تشریف لائے۔(مرقات)غالبًا یہ تشریف آوری نماز کے لیے نہ تھی بلکہ ان حضرات کو شرف ملاقات بخشنے کے لیے اس لیے علینا فرمایا۔ ۲؎ احب فرمایا افضل نہ فرمایا اس لیے کہ افضلیت لازم نہیں،دیکھو حضرت علی مرتضی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو محبوب ترین ہیں مگر حضرات شیخین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں۔(مرقات)اس بنا پر حدیث شریف بالکل واضح ہے۔ ۳؎ ان حضرات نے افضلیت اور احبیت میں فرق نہ فرمایا،چونکہ نماز یا زکوۃ یا جہاد افضل اعمال ہیں اس لیے ان لوگوں نے یہ جواب دیا یہاں واؤ بمعنی او ہے۔خیال رہے کہ عمومًا نماز تمام اعمال سے افضل ہے بعض ہنگامی حالات میں جہاد نماز سے افضل ہوتا ہے۔ ۴؎ حقیقت یہ ہے کہ نماز،زکوۃ،جہاد بھی الحب فی اللہ کی شاخیں ہیں کہ مسلمان ان اعمال سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہے اور تمام گناہوں سے نفرت البغض فی اللہ کی شاخیں ہیں کہ مؤمن تمام گناہوں سے اللہ تعالٰی کے لیے نفرت کرتا ہے،یوں ہی نمازیوں عابدوں سے محبت اللہ کے لیے ہے کفار اور فساق سے نفرت اللہ کے لیے،نیز کل قیامت میں جس عمل پر حضرات انبیاء و شہداء غبطہ کریں گے وہ یہ ہی اللہ کے لیے محبت اللہ کے لیے عداوت ہے لہذا اس عمل کا محبوب ترین ہونا بالکل درست دوسری عبادات اگرچہ افضل ہوں مگر یہ عمل ان عبادات کا ذریعہ ہے لہذا یہ رب تعالٰی کو بڑا پیارا ہے۔ ۵؎ یعنی انہوں نے حضور انور کا تشریف لانا یہ سوال فرمانا حضرات صحابہ کا مذکورہ جواب دینا اس کا ذکر نہ کیا احب الاعمال سے روایت فرمائی۔