Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
848 - 975
حدیث نمبر 848
روایت ہے حضرت یزید ابن نعامہ سے ۱؎  فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب کوئی شخص کسی سے بھائی چارہ کرے ۲؎  تو اس سے اس کا نام اس کے باپ کا نام پوچھ لے اور یہ کہ وہ کس قبیلہ سے ہے کہ یہ تحقیقات دوستی کو مضبوطی دینے والی ہے ۳؎(ترمذی)
شرح
۱؎ یہ جنگ حنین میں مشرکوں کے ساتھ تھے بعد میں اسلام لائے ان کی صحابیت میں اختلاف ہے ۔جامع اصول میں انہیں صحابی کہا،ابو حاتم نے کہا کہ بصری ہیں اور تابعی ہیں۔(اشعہ)ممکن ہے انہوں نے یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے بحالت کفر سنی ہو اور مسلمان ہوجانے کے بعد روایت کی ہو کہ ایسی روایت معتبر ہے۔ (مرقات)اور اگر تابعی ہو تو تابعی کی مرسل حدیث صحیح ہے جب کہ وہ ثقہ ہوں۔

۲؎  یعنی اسے دینی بھائی بنائے اس سے میل جول پیدا کرنا چاہیے۔

۳؎  بارہا ایسا ہوتا ہے کہ کسی کو عالی خاندان سمجھ کر اس سے محبت کی بعد میں اس کے خلاف ظاہر ہوا تو نفرت ہوگئی اس لیے پہلے سے ہی سارے انتظامات کرے۔
Flag Counter