۱؎ دین سے مراد یا تو ملت و مذہب ہے یا سیرت و اخلاق،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں یعنی عمومًا انسان اپنے دوست کی سیرت و اخلاق اختیار کرلیتا ہے کبھی اس کا مذہب بھی اختیار کرلیتا ہے لہذا اچھوں سے دوستی رکھو تاکہ تم بھی اچھے بن جاؤ۔صوفیاء فرماتے ہیں لاتصاحب الا مطیعا ولا تخالل الا تقیا نہ ساتھ رہو مگر اللہ رسول کی فرمانبرداری کرنے والے کے نہ دوستی کرو مگر متقی سے۔
۲؎ یعنی کسی سے دوستانہ کرنے سے پہلے اسے جانچ لو کہ اللہ رسول کا مطیع ہے یا نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے: "وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ"۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ انسانی طبیعت میں اخذ یعنی لے لینے کی خاصیت سے،حریص کی صحبت سے حرص،زاہد کی صحبت سے زہد و تقویٰ ملے گا۔خیال رہے کہ خلت دلی دوستی کو کہتے ہیں جس سے محبت دل میں داخل ہوجاوے۔یہ ذکر دوستی و محبت کا ہے کسی فاسق و فاجر کو اپنے پاس بٹھا کر متقی بنا دینا تبلیغ ہے،حضور انور نے گنہگاروں کو اپنے پاس بلاکر متقیوں کا سردار بنادیا۔
۳؎ اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو اس حدیث کو موضوع کہتے ہیں جیسے حافظ سراج الدین قزوینی، حافظ ابن حجر نے قزوینی کا بہت رد کیا اور حدیث کا صحیح ہونا ثابت کیا۔(مرقات و اشعہ)