۱؎ یعنی اگرچہ محب کے اعمال محبوب جیسے نہ ہوں مگر محبت کی بنا پر اللہ تعالٰی اسے محبوب سے جدا نہ کرے گا، پھول کے ساتھ گھاس بندھ جاوے تو گلدستہ میں اس کی بھی عزت ہوجاتی ہے،اگر کسی گنہگار کو حضور احمد مختار صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت نصیب ہوجاوے تو ان شاءاللہ حضور ہی کے ساتھ ہوا۔
۲؎ یعنی کفار و منافقین کی ہمراہی اختیار نہ کرو،مخلص مؤمنوں کی خصوصًا ان کی جو تم کواپنی صحبت میں کامل مکمل کردے،تم کو اللہ رسول کے رنگ میں رنگ دے ان کی ہمراہی ان کے ساتھ رہنا ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اختیار کرو۔
۳؎ یہ فرمان بہت جامع ہے یعنی روزی حلال کماؤ تاکہ نیک لوگوں کے لائق بنو اور کوشش کرو کہ تمہاری روزی کفار و فساق منافقین نہ کھائیں اللہ کے مقبول بندے کھائیں،جو کھا کر نماز پڑھیں عبادات کریں اور انکے ثواب میں تمہارا بھی حصہ ہو تم کو دعائیں دیں تو تمہارا بھلا ہوجائے،اس کا کھانا دانہ کی وجہ سے انہیں تم سے محبت،الفت ہوجاوے،یہ الفت خدا رسی کا ذریعہ بنے کھانے میں کپڑا اور دوسرے خرچ بھی داخل ہیں۔اس حدیث کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے"وَ یُطْعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیۡنًا وَّ یَتِیۡمًا وَّ اَسِیۡرًا"اب تو مسلمانوں کی کمائی میراثی،بھانڈ،قوال کھاتے ہیں یا پھر حاکم حکیم وکیلوں کے ہاتھ لگتی ہے اللہ تعالٰی نیک توفیق دے،اس حدیث کو ہمارے لیے مشعل راہ بنائے،ہماری کمائی میں علماء صالحین طلباء کا حصہ ہو، حج و زیارت میں خرچ ہو،ایسی جگہ خرچ ہو جہاں خرچ سے اللہ رسول خوش ہوجاویں۔