| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر گزرا حضور انور کے پاس کچھ لوگ تھے تو آپ کے پاس والوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا کہ میں اس سے اللہ کے لیے محبت کرتاہوں ۱؎ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تم نے اسے بتادیا ہے عرض کیا نہیں فرمایا اس کے پاس جاؤ اسے بتادو ۲؎ چنانچہ وہ شخص اسکے پاس گیا اسے یہ خبر دی۳؎ وہ بولا کہ تجھ سے وہ محبت کرے جس کی راہ میں تو نے مجھ سے محبت کی ہے ۴؎ راوی فرماتے ہیں کہ پھر واپس ہوا تو اس سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا۵؎ تو اس نے حضور کو خبر دی جو اس نے کہا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرے ۶؎ اور تیرے لیے وہ ہے جو تم نے طلب اجر کیا ۷؎(بیہقی شعب الایمان)اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ انسان اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرے اور اس کے لیے وہ ہے جو کمائے ۸؎
شرح
۱؎ اپنے اعمال صالحہ کی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو خبر دینا سنت صحابہ ہے اس سے اعمال زیادہ قبول ہوتے ہیں۔ ۲؎ کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں اور محبت بھی خالصًا لوجہ اللہ ہے تاکہ اس کے دل پر تمہاری اسی محبت کا اثر ہو اور وہ بھی تم سے محبت کرنے لگے اور محبت موالاۃ بن جاوے ظاہر ہے کہ موالات محبت سے قوی تر ہے۔ ۳؎ یعنی اس پہلے شخص نے اس دوسرے شخص کو خبر دی حضور کے حکم پر عمل کرتے ہوئے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ حکم وجوبی نہیں استحبابی ہے کہ محبت کی خبر دینا واجب نہیں ہوسکتا ہے کہ اس کے لیے وجوبی ہو۔ ۴؎ سبحان اللہ! اس خبر دینے کا یہ نتیجہ ہوا یقین ہے کہ اس کے دل میں بھی اس سے محبت پیدا ہوگئی ہوگی غالبًا اس شخص نے اس دوسرے شخص کا تقویٰ عبادات اسلام پر پختگی وغیرہ دیکھ کر اس سے محبت کی تھی لہذا یہ محبت فی اللہ تھی۔ ۵؎ یہ پوچھا کہ تم نے ان صاحب سے کیا کہا اور انہوں نے تم کو کیا جواب دیا،یہ پوچھنا ایسا ہی ہے جیسے رب تعالٰی فرشتوں سے اپنے بندوں کے اعمال کے متعلق پوچھتا ہے حالانکہ علیم ہے خبیر ہے حضور انور کو سب کچھ خبر ہے مگر اس پوچھنے میں لاکھوں حکمتیں ہیں۔ ۶؎ معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوسرے صاحب بڑے پایہ کے بزرگ تھے جن کی ہمراہی ان اول صاحب کے لیے باعث برکت و رحمت تھی اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے بطورِ بشارت یہ فرمایا۔ ۷؎ ہمراہ سے مراد دین و دنیا حتی کہ جنت میں ہمراہی ہے۔ ۸؎ یعنی تم نے اس شخص سے محض اللہ واسطے محبت کی ہے اس محبت میں کوئی دنیاوی لالچ نہیں اس لیے تمہاری یہ محبت بھی عبادت ہے۔احتساب بنا ہے حسب سے جیسے اعتداد عدد سے حسب کے لفظی معنی ہیں حساب لگانا یا گمان کرنا احتساب کے معنی ہیں اجر طلب کرنا اللہ کی رضا چاہنا۔