۱؎ عری جمع ہے عروۃ کی،عروہ رسی کا وہ کنارہ جو ڈول سے بندھا ہوتا ہے اور ڈول اس سے وابستہ ہوتا ہے پھر ہر اس چیز کو عروہ کہا جانے لگا جس سے کوئی چیز پکڑی جاوے جیسے کوزہ کا دستہ وغیرہ لہذا عروہ کے معنی گرہ بہت مناسب ہے یہاں اس سے مراد ایمان کے ارکان اور مؤمنوں کے اعمال ہیں یعنی ایمان کا کون سا رکن اور مؤمن کا کون سا عمل زیادہ لائق بھروسہ ہے۔
۲؎ دو طرفہ دوستی موالات ہے اور یک طرفہ دوستی حب،یوں ہی دو طرفہ عداوت معادات ہے یک طرفہ دشمنی بغض۔(مرقات)یعنی لڑائی اللہ کے لیے ہے ملاپ اللہ کے لیے یعنی جو اللہ کا مقبول ہو وہ ہمارا پیارا ہوجائے اگرچہ اجنبی ہو اور جو اللہ کا مردود ہو وہ ہمارا دشمن ہوا اگرچہ قرابت دارہو۔حضرت سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا
ہزار خویش کہ بیگانہ از خدا باشد فداء یک تن بیگانہ کاشنا باشد
رام نام کشے بھلے کہ ٹپ ٹپ ٹپکے چام واردی کنچن دیہہ کو کہ جس کا نا ہیں رام