| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ کے بعض بندے وہ ہیں ۱؎ جو نہ تو نبی ہیں نہ شہید ان پر حضرات انبیاء شہداء قیامت کے دن رشک کریں گے ان کے قربِ الٰہی کی وجہ سے ۲؎ لوگ بولے یارسول اللہ ہمیں خبر دیں کہ وہ کون لوگ ہیں فرمایا وہ وہ قوم ہے جو اللہ کے قرآن کی وجہ سے۳؎ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں بغیر آپس کی قرابت داری کے اور بغیر آپس کی مالی لین دین کے ۴؎ تو اللہ کی قسم ان کے چہرے نور ہوں گے اور وہ نور پر ہوں گے ۵؎ جب لوگ ڈریں گے یہ نہ ڈریں گے اور جب لوگ غمگین ہوں گے تو یہ غمگین نہ ہوں گے ۶؎ اوریہ آیت تلاوت فرمائی خبردار رہو بے شک اللہ کے ولی نہ ان پر ڈر ہے نہ وہ غمگین ہوں ۷؎(ابوداؤد)اور اسے شرح سنہ میں حضرت ابو مالک سے روایت کیا ۸؎ مصابیح کے الفاظ میں مع زیادہ کے یوں ہی شعب الایمان میں ہے۔
شرح
۱؎ اناس جمع فرماکر یہ بتایا کہ یہ حضرات انسان ہیں اور وہ ایک دو نہیں بلکہ پوری جماعت ہے یہ اولیاء اللہ ہیں اور ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے۔ ۲؎ اس فرمان عالی کا مطلب ابھی عرض کردیا گیا کہ ان حضرات کے قربِ الٰہی کی انبیاء کرام شہداء عظام تعریف کریں گے یا ان کی بے غمی بے فکری پر رشک کریں گے۔قیامت میں گنہگاروں کو اپنی حضرات انبیاء کرام کو اپنی امت کی فکر بھی ہوگی غم بھی مگر یہ حضرات اپنے اور دوسروں کے غم و فکر سے آزاد ہوں گے اس آزادی پر حضرات انبیاء رشک کریں گے لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہ یہ لوگ انبیاءکرام سے افضل ہوں، رب تعالٰی فرماتاہے:"اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ"یہاں اولیاءاللہ فرمایا گیا انبیاء نہ ارشاد ہوا۔ ۳؎ قوی یہ ہے کہ روح اللہ ر کے ضمہ سے ہے بمعنی زندگی بخش چیز اور اس سے مراد قرآن کریم ہے کہ یہ بھی مسلمانوں کو جاودانی زندگی بخشتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَوْحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا"اس کی اور بھی شرحیں کی گئی ہیں یعنی قرآن مجید کی اتباع اس کے احکام کی پابندی کی وجہ سے محبت کرتے ہیں کہ یہ لوگ پکے مسلمان ہیں۔ ۴؎ یعنی ان کی اس محبت کی وجہ آپس کی قرابتداری اور مالی لین دین نہیں ہوتی،صرف اس لیے محبت کرتے ہیں کہ وہ اللہ کا مقبول بندہ ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مطیع فرمان ہے خواہ اپنا عزیز ہو یا اجنبی لہذا حدیث واضح ہے،اس کا یہ مطلب نہیں کہ ﷲ فی اللہ محبت صرف اجنبی سے ہی چاہیے اپنے عزیز و قرابت داروں سے نہ چاہیے اگرچہ وہ کیسا ہی نیک و صالح ہو،چونکہ دنیاوی محبتیں اکثر نسب اور مالی تعلق کی بنا پر ہوتی ہیں اس لیے ان ہی دو چیزوں کا ذکر فرمایا گیا طمع لالچ مال کی زیادتی ہوتی ہے۔ ۵؎ یعنی ان کے چہرے نورانی ہوں گے اور وہ نور کے ممبروں پر ہوں گے جیسے دنیا کی مجلسوں میں معزز آدمی کو عزت کی جگہ بٹھایا جاتا ہے ایسے انہیں رب تعالٰی قیامت میں عزت کی جگہ عطا فرمائے گا تاکہ اہلِ محشر پر ان کی عظمت ظاہر ہو۔ ۶؎ اس ارشاد عالی نے حضرات انبیاء کے رشک کی وجہ بیان فرمادی کہ یہ لوگ اس دن اپنی اور دوسروں کی فکروں سے آزاد ہوں گے اس بے فکری اور آزادی پر رشک کیا جاوے گا انہیں نہ اپنے بخشے جانے کی فکر کہ وہ بخش دیئے گئے نہ دوسروں کو بخشوانے کی فکر کہ وہ کسی کے ذمہ دار نہیں لہذا حدیث بالکل واضح ہوگئی۔ ۷؎ یا تو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی اپنے فرمان عالی کی تائید کے لیے یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تلاوت کی حدیث کی تقویت کے لیے۔خیال رہے کہ ضعیف سے ضعیف حدیث بھی اگر قرآنی آیت سے قوت پائے تو صحیح ہوجاتی ہے یعنی ان لوگوں کو نہ عذاب کا خوف ہوگا نہ ثواب جاتے رہنے کا غم۔ ۸؎ آپ کا نام کعب ابن عاصم ہے،کنیت ابو مالک ہے،اشعری ہیں،صحابی ہیں،آپ سے بہت حضرات نے روایات نقل کیں،عہدِ فاروقی میں وصال ہوا۔(مرقات)