روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا میری محبت میرے بارے میں محبت کرنے والوں اور میرے بارے میں بیٹھنے والوں ملاقات کرنے والوں اور میری راہ خرچ کرنے والوں کے لیے لازم ہوگئی ۱؎ ترمذی کی روایت میں ہے فرمایا کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ میری راہ میں محبت کرنے والے ان کے لیے نور کے منبر ہیں ان پر نبی اور شہداء رشک کریں گے ۲؎
شرح
۱؎ یعنی یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص ان تین کاموں میں سے کوئی کام کرے اور اللہ تعالٰی اس سے محبت نہ کرے،اللہ کی راہ میں اس کے بندے سے محبت کی جائے اور خدا تعالٰی اس سے محبت نہ کرے،خدا کو سجدہ کرنا ہو تو کعبہ کی طرف سجدہ کرو،اگر رب تعالٰی سے محبت کرنا ہو تو اس کے بندوں سے محبت کرو یہ بندے محبت الٰہی حاصل کرنے کے لیے گویا کعبہ ہیں۔ ۲؎ یا تو یہاں غبطہ سے مراد ہے خوش ہونا تب تو حدیث واضح ہے کہ حضرات انبیاءکرام ان لوگوں کو اس مقام پر دیکھ کر بہت خوش ہوں گے اور ان لوگوں کی تعریف کریں گے۔(مرقات)اور اگر غبطہ بمعنی رشک ہی ہو تو مطلب یہ ہے کہ اگر حضرات انبیاء و شہداء کسی پر رشک کرتے تو ان پر کرتے تو یہ فرضی صورت کا ذکر ہے۔(اشعۃ اللمعات)یا یہ رشک اپنی موت کی بنا پر ہوگا کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ لوگ ایسے درجے میں ہیں کہ ہماری امت میں نہیں یا یہ مقصد ہے کہ وہ حضرات اپنی امت کا حساب کرا رہے ہوں گے اوریہ لوگ آرام سے ان منبروں پر بے فکری سے آرام کررہے ہوں گے تو حضرات انبیاءکرام ان لوگوں کی بے فکری پر رشک کریں گے کہ ہم مشغول ہیں یہ فارغ البال۔بہرحال اس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ یہ حضرات انبیاء کرام سے افضل ہوں گے۔(مرقات و اشعہ وغیرہ)