۱؎ اس کی شرح ہوچکی ہے یہ تاثیر یا تو ہر عجوہ کھجور میں ہے یا مدینہ منورہ کی عجوہ کھجور میں،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔حق یہ ہے کہ عجوہ کھجور جنت میں ملے گی اور اس میں جنت کے پھلوں کی سی برکت ہے،اس سے تکالیف بیماری دور ہوتی ہیں اور تندرستی بحال رہتی ہے۔
۲؎ ا س کی شرح بھی گزرگئی کہ کھمبی جسے سانپ کی چھتری یا بلی کا پاؤں بھی کہتے ہیں جو برسات کے موسم میں بھیگی لکڑی میں چھتری کی طرح نمودار ہوتی ہے یا تو بنی اسرائیل کا من یہ ہی تھا یا من کی طرح یہ بھی اعلیٰ نعمت ہے جو بغیر محنت ہم کو مل جاتی ہے۔اس کا عرق آنکھ کی بعض بیماریوں میں مفید ہے لہذا کوئی بغیر طبیب حاذق کے مشورہ کے اس کا استعمال نہ کرے،یہ ہی حال تمام احادیث کی دواؤں کا ہے کہ تمام دوائیں برحق ہیں مگر ہم ان کا استعمال طبیب کی رائے سے کریں۔
۳؎ یہ حدیث احمد،ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ سے اور احمد،نسائی،ابن ماجہ نے ابوسعید خدری اور حضرت جابر سے روایت کی بخاری نے بروایت ابن عباس یہ زیادتی کی کہ عربی مینڈھا سیاہ رنگ کا شفا ہے عرق النساء کو کہ اس کا گوشت مریض کوکھلایا جائے اور اس کا شوربا اسے پلایا جائے۔(مرقات)