Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
838 - 975
حدیث نمبر 838
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اچھے برے ساتھی کی مثال مشک کے اٹھانے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے ۱؎  مشک بردار یا تمہیں کچھ دے دے گا یا تم اس سے خرید لو گے اور یا تم اس سے اچھی خوشبو پالو گے۲؎  اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلادے گا اور یا تم اس سے بدبو پاؤ گے ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ سبحان اللہ! کیسی پاکیزہ مثال ہے جس کے ذریعہ سمجھایا گیا ہے کہ بروں کی صحبت فائدہ اور اچھوں کی صحبت نقصان کبھی نہیں دے سکتی،بھٹی والے سے مشک نہیں ملے گا گرمی اور دھواں ہی ملے گا،مشک والے سے نہ گرمی ملے نہ دھواں مشک یا خوشبو ہی ملے گی۔

۲؎  یہ ادنی نفع کا ذکر ہے مشک خرید لینا یا اس کا مفت ہی دے دینا اعلیٰ نفع ہے جس سے ہمیشہ فائدہ پہنچتا رہے گا اور صرف خوشبو پالینا ادنی نفع ہے۔خیال رہے کہ ابوجہل وغیرہ دشمنان رسول حضور کے پاس حاضر ہوئے ہی نہیں وہاں حاضری محبت سے حاصل ہوتی ہے۔

۳؎  اس فرمان عالی کا مقصد یہ ہے کہ حتی الامکان بری صحبت سے بچو کہ یہ دین و دنیا برباد کردیتی ہے اور اچھی صحبت اختیار کرو کہ اس سے دین و دنیا سنبھل جاتے ہیں۔سانپ کی صحبت جان لیتی ہے،برے یار کی صحبت ایمان برباد کردیتی ہے۔

مار بد تنہا ہمیں برجاں زند 	یار بد بر دین و بر ایمان زند

صوفیاءکرام کے نزدیک ساری عبادات سے افضل صحبت نیک ہے آج مسلمان نمازی،غازی،حاجی،قاضی بنتے رہتے ہیں مگر صحابی نہیں بنتے کہ صحابی صحبت نبی سے بنتے تھے وہ صحبت اب کہاں نصیب۔حضور سب کچھ دے گئے مگرصحبت ساتھ ہی لے گئے صلی اللہ علیہ وسلم۔
Flag Counter