| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ ایک شخص نے اپنے بھائی سے دوسری بستی میں ملاقات کی ۱؎ اللہ تعالٰی نے اس کے اوپر ایک فرشتہ مقرر کردیا ۲؎ وہ بولا کہاں جاتا ہے۳؎ اس نے کہا کہ اس بستی میں اپنے ایک بھائی کا ارادہ کرتا ہوں وہ بولا تیرا اس پر احسان ہے جسے تو حاصل کرنا چاہتا ہے۴؎ بولا نہیں بجز اس کے کہ میں اس سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں ۵؎ فرشتہ نے کہا کہ میں تیری طرف اللہ کا قاصد ہوں کہ اللہ تجھ سے محبت کرتا ہے جیسے تو نے اس سے محبت کی ۶؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہاں ملاقات کرنے سے مراد ہے ملاقات کے لیے جانا ملاقات کا ارادہ کرنا،بھائی سے مراد ایمانی اسلامی بھائی ہے جس کو اللہ کے لیے بھائی بنایا ہو خواہ نسبی بھائی بھی ہو یا نہیں۔ ۲؎ عربی میں مدرج راستہ کو بھی کہتے ہیں سیڑھی کو بھی یعنی چلنے کی جگہ یا چڑھنے کی،یہاں بمعنی راستہ ہے۔ ممکن ہے کہ اس کی بستی یہاں سے کچھ بلندی میں ہو فرشتہ یا حضرت جبریل علیہ السلام تھے یا کوئی اور دوسرا فرشتہ جو پہلے سے وہاں مقرر کردیا گیا۔(ازمرقات) ۳؎ یہ سوال بے علمی کی بناء پر نہیں بلکہ اس سے وہ جواب حاصل کرنے کے لیے ہے جو یہاں مذکور ہے اور اسے بشارت دینے کے لیے ہے تاکہ لوگ یہ دونوں باتیں سنیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا اسے بیان فرمانا اسی مقصد کے لیے ہے۔ ۴؎ یعنی تو کبھی اس پر احسان کرچکا ہے جس کا عوض حاصل کرنے کے لیے جاتا ہے یا اس کا تجھ پر کچھ احسان ہے جس کا عوض دینے تو جارہا ہے۔ترب بناہے رب سے بمعنی پرورش کرنا،حاصل کرنا،اصلاح کرنا۔(اشعۃ اللمعات) ۵؎ یعنی اس سے میری محبت اس لیے ہے کہ وہ اللہ کا نیک بندہ ہے اور نیک بندوں کی محبت سے اللہ تعالٰی راضی ہوجاتا ہے بخشے ہوؤں کی ملاقات کرو کہ تم بھی بخشے جاؤ۔ اُٹھ جاگ فرید استیا توں خلقت ویکھن جا مت کوئی بخشیا مل پوے توں بھی بخشیا جا ۶؎ یعنی تیرا یہ عمل بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوگیا اور تیرا مقصد حاصل ہوگیا۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ اللہ کے واسطے کسی سے محبت کرنا بہترین نیکی ہے۔دوسرے یہ کہ ایسی محبت اللہ تعالٰی کی محبت کا ذریعہ ہے۔تیسرے یہ کہ صالحین کی ملاقات ان کی زیارت کے لیے جانا بہت افضل ہے۔چوتھے یہ کہ عام انسان فرشتہ کو شکل انسانی میں دیکھ سکتے ہیں۔پانچویں یہ کہ اللہ تعالٰی کبھی حضرات اولیاءاللہ کے پاس فرشتہ کے ذریعہ پیغام بھیجتا ہے یہ درجہ الہام سے اوپر ہے۔(مرقات)مگریہ پیغام وحی نہیں کہ وحی حضرات انبیاء کے سواءکسی کو نہیں ہوتی۔