۱؎ نہ تو کبھی ان سے ملاقات کی ہو نہ ان کے لیے نیک اعمال کیے ہوں مگر ان سے دلی محبت رکھتا ہو جیسے آج ہم گندے کمینے بدکار سیاہ کار حضور سید الابرار صلی اللہ علیہ و سلم اور ان کے اصحاب اخیار سے محبت کریں۔
۲؎ یعنی یہ شخص قیامت میں ان محبوب نیکوں کے ساتھ ہوگا،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیۡقِیۡنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیۡنَ"۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ بروں سے محبت کرنے کا انجام بھی یہ ہی ہے۔خیال رہے کہ ہر نسبت جنسیت چاہتی ہے،عشق و محبت نہ جنسیت دیکھے نہ برابری،بندہ کو اللہ سے،امتی کو رسول اللہ سے عشق ہوسکتا ہے اللہ تعالٰی نصیب کرے،خوف خدا،عشق جناب مصطفے اﷲ کی بڑی نعمت ہے۔