Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
833 - 975
حدیث نمبر 833
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ تعالٰی جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے ۱؎ تو حضرت جبریل کو بلاتا ہے پھر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں ۲؎  تم اس سے محبت کرو چنانچہ جبریل اس سے محبت کرتے ہیں۳؎ آسمان میں اعلان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی فلاں سے محبت کرتا ہے۴؎ تم لوگ اس سے محبت کرو ۵؎  تو اس سے آسمان والے محبت کرتے ہیں۶؎  پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے ۷؎  اور جب رب تعالٰی کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو فرماتا ہے کہ میں فلاں سے ناراض ہوں تو تم بھی اس سے ناراض ہوجاؤ فرمایا کہ جبرئیل اس سے ناراض ہوجاتے ہیں پھر آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی فلاں سے ناراض ہے تم لوگ بھی اس سے ناراض ہوجاؤ ۸؎  فرمایا پھر وہ لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں پھر زمین میں اس کے لیے نفرت رکھ دی جاتی ہے ۹؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی جب یہ روحیں بدنوں میں آگئی تو ہر روح کو اس روح سے الفت ہوگی جس کے ساتھ پہلے خلط ملط رہ چکی ہے اگرچہ دنیا میں مختلف زمانوں مختلف زمینوں میں رہیں۔

۲؎  یعنی جو روحیں وہاں عالم ارواح میں الگ الگ تھیں کہ یہ روح ایک زمرہ کی تھی وہ روح دوسرے زمرہ کی وہ بدن میں آنے کے بعد اگرچہ ایک جگہ رہیں مگر ان میں الفت نہ ہوگی نفرت ہوگی۔

ناریاں مر ناریاں را طالب اند		نوریاں مر نوریاں راجاذب اند

 کنعان حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا ہوکر الگ رہا،بلقیس یمن میں رہتے ہوئے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچ گئی،ابوجہل مکہ میں رہتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دور رہا،اویس قرنی دور رہتے ہوئے حضور سے قریب ہو رہے بعد دار اور قرب مزار کچھ نہیں۔

۳؎  ظاہر یہ ہے کہ بندہ سے مراد مؤمن  انسان ہے،محبت سے مراد یا تو اس کی بھلائی کا ارادہ فرمانا ہے تو یہ محبت رب کی ذاتی صفت ہے یا اس بندہ پر کرم و احسان فرمانا ہے تو یہ صفت فعل ہے لہذا حدیث ظاہر ہے اس پر علم کلام کا کوئی اعتراض نہیں۔

۴؎  چونکہ حضرت جبریل تمام فرشتوں سے افضل ہیں،نیز جبریل علیہ السلام ہی خالق و مخلوق کے درمیان سفیر ہیں اور حضرات انبیاءکرام پر وحی لانے والے اس لیے ان سے ہی یہ فرمایا جاتا ہے۔بلانے سے مراد انہیں مطلع فرمانے کے لیے ندا فرمانا ہے۔رب تعالٰی کی محبت کا سبب یا اس بندے کے نیک اعمال ہوتے ہیں یا کسی محبوب بندے کا محبوب ہونا۔

۵؎  یعنی اے آسمان کے فرشتو صرف اس لیے اس بندے سے محبت کرو کہ وہ اللہ کا پیارا ہے تاکہ تم اس سے محبت کرکے اللہ کے اور زیادہ محبوب بن جاؤ،یہ ہے محبت فی اللہ اور محبت من اللہ۔

۶؎  یعنی اس اعلان پر سارے آسمان والے اس بندے سے محبت کرنے لگتے ہیں اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔

۷؎  زمین سے مراد زمینی باشندے انسان ہیں یا جن و انس دونوں مگر وہ جن و انس جو اہل محبت سے ہوں جو بہ شکل انسان جانور ہیں وہ محبت نہ کریں تو نہ کریں۔چنانچہ حضرات انبیاء اولیاء،حضرات صحابہ و اہل بیت کے بہت لوگ دشمن ہیں،یہ لوگ اہل محبت اور دل والے نہیں لباس آدمی میں شیر بھیڑیئے ہیں۔(مرقات)اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے دل اس بندے کی طرف کھنچنے لگتے ہیں وہ دلوں کا مقناطیس بن جاتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا"یہ حدیث اس آیت کی شرح ہے۔

۸؎  یعنی اے آسمان والو فلاں بدنصیب انسان سے اللہ تعالٰی ناراض ہے اس پر غضب کرنا چاہتا ہے تم اس سے نفرت کرو اس کے لیے بددعائیں کرو۔

۹؎  یعنی ایسے شخص سے فرشتے نفرت کرتے ہیں اسے بددعائیں دیتے ہیں اور دل والے محبت والے انسانوں کے دلوں میں قدرتی طور پر اس سے نفرت ہوجاتی ہے اگر کچھ برے لوگ اس کی طرف مائل ہوں تو اس کا اعتبار نہیں۔
Flag Counter