Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
832 - 975
باب الحب فی اللہ و من اللہ

اللہ کی راہ میں محبت اور اللہ کی محبت کا بیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  فی اللہ کا فی یا تو اپنے ہی معنی پر ہے تو سبیل پوشیدہ ہے یا بمعنی لام ہے جیسے رب فرماتاہے:"وَالَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا فِیۡنَا"یعنی اللہ کی راہ میں محبت یعنی کسی بندے سے صرف اس لیے محبت کرے کہ رب تعالٰی اس سے راضی ہوجاوے،اس میں دنیاوی غرض ریا نہ ہو اس محبت میں ماں باپ،اولاد اہل قرابت مسلمانوں سے محبت سب ہی داخل ہیں جب کہ رضا الٰہی کے لیے ہوں۔حضرات اولیاء انبیاء سے محبت سبحان اللہ! یہ تو حب فی اللہ کا اعلٰی درجہ ہے خدا نصیب کرے۔

۲؎  محبت من اللہ سے مراد وہ محبت ہے جو رب بندے سے محبت فرماوے اور اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دے جیساکہ بعض بزرگوں کو دیکھا گیا ہے کہ ان کی آستانوں پر لوگوں کے میلے لگے رہتے ہیں لہذا ان دونوں عبارتوں میں تکرار نہیں دونوں مستقل مضمون ہیں۔
حدیث نمبر 832
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ روحیں مخلوط لشکر ہیں ۱؎  تو ان میں سے جو جو جان پہچان رکھتی ہیں وہ الفت کرتی ہیں اور جو اجنبی رہ چکی ہیں وہ الگ رہتی ہیں۔(بخاری)اور مسلم نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا۔
شرح
۱؎ یعنی انسانی روحیں بدنوں میں آنے سے پہلے آپس میں مخلوط تھیں اس طرح کہ سعید روحیں ایک گروہ تھیں اور شقی روحیں دوسرا گروہ مگر سعید آپس میں مخلوط مخلوط تھیں اور شقی آپس میں مخلوط۔
Flag Counter