۱؎ فی اللہ کا فی یا تو اپنے ہی معنی پر ہے تو سبیل پوشیدہ ہے یا بمعنی لام ہے جیسے رب فرماتاہے:"وَالَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا فِیۡنَا"یعنی اللہ کی راہ میں محبت یعنی کسی بندے سے صرف اس لیے محبت کرے کہ رب تعالٰی اس سے راضی ہوجاوے،اس میں دنیاوی غرض ریا نہ ہو اس محبت میں ماں باپ،اولاد اہل قرابت مسلمانوں سے محبت سب ہی داخل ہیں جب کہ رضا الٰہی کے لیے ہوں۔حضرات اولیاء انبیاء سے محبت سبحان اللہ! یہ تو حب فی اللہ کا اعلٰی درجہ ہے خدا نصیب کرے۔
۲؎ محبت من اللہ سے مراد وہ محبت ہے جو رب بندے سے محبت فرماوے اور اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دے جیساکہ بعض بزرگوں کو دیکھا گیا ہے کہ ان کی آستانوں پر لوگوں کے میلے لگے رہتے ہیں لہذا ان دونوں عبارتوں میں تکرار نہیں دونوں مستقل مضمون ہیں۔