Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
82 - 975
حدیث نمبر 82
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر  والوں کوجب بخار آتا تو آپ سیرے(لپٹا)کا حکم دیتے وہ تیار کیاجاتا پھر انہیں حکم دیتے تو وہ اس سے پیتے ۱؎  اور فرماتے کہ یہ غمگین کے دل کو قوت دیتا ہے اور بیمار کے دل سے تنگی دور کرتا ہے جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنے چہرے سے پانی کے ذریعہ میل دور کرتی ہے ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
شرح
۱؎ حسا جاننے کی چیز کو کہتے ہیں،یہ آٹے،گھی،شکر سے تیار کیا جاتا ہے،اتنا پتلا کہ پیا جاسکتا ہے جسے پنجابی میں سیرا کہتے ہیں،اردو میں لپٹا،عربی میں حسا،یہ نہایت لذیذ نرم اور زود ہضم ہوتا ہے بہت طاقت کی چیز ہے یعنی لپٹا سیرا غمگین اور بیمار دونوں کے لیے مفید ہے کہ اس سے غم بھی غلط ہوتا ہے اور دل کی کمزوری گھبراہٹ و تنگی جو بیماری سے پیدا ہوتی ہے جاتی رہتی ہے اب بھی اس کا تجربہ ہوتا ہے۔
Flag Counter