۱؎ عیال کے معنی پروردہ بہت مناسب ہیں۔بال بچوں کو عیال اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ صاحب خانہ کے پروردہ ہوتے ہیں،قرآن کریم فرماتاہے:"وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی"رب تعالٰی نے تم کو بڑا ہی عیال والا پایا تو تم کو اتنا غنی کردیا کہ تم سارے جہان کو پال لو۔عائلًا کے یہ ہی معنی حضرت ابن عباس نے کیے،دیکھو بخاری شریف کتاب التفسیر یہ ہی آیت۔اللہ تعالٰی سب کا رازق ہے مخلوق اس کی مرزوق ہے لہذا اس کی عیال ہے یعنی پروردہ۔
۲؎ یعنی جیسے تم اس شخص سے بہت خوش ہوتے ہو وہ تمہارے غلاموں لونڈیوں بال بچوں سے اچھا سلوک کرے کیونکہ وہ تمہارے پروردہ ہیں ایسے ہی جو کوئی اللہ کی مخلوق سے بھلائی کرے اللہ اس سے خوش ہوتا ہے،دیکھو جو کوئی تمہارے بچوں نوکروں غلاموں کو کچھ دے تو تم پر قرض ہوجاتا ہے تم انتظار کرتے ہو کہ مجھے موقعہ ملے تو اس کے نوکروں کو خوش کروں،کسی بچے کی شادی میں تم نیوتا دو تو وہ تمہار ا قرض ہوتا ہے رب کے بندوں کو دو تو وہ رب تعالٰی پر قرض ہوتا ہے،فرماتاہے:"مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا"۔