۱؎ یعنی اس حاجت روائی سے اس بندہ مؤمن کو خوش کرنا چاہتا ہو محض ایمانی رشتہ کی بنا پرکسی اور وجہ سے نہیں۔
۲؎ یعنی اس امتی بندے کی خوشی سے مجھے خوشی ہوگی۔اس سے معلوم ہوا کہ تاقیامت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو ہر ہر شخص کے ہر ظاہر باطن جسمانی دلی حالات کی خبر ہے اگر حضور بے خبر ہوں اور مؤمن کی خوشی کا حضور کو علم نہ ہو تو آپ کو خوشی کیسے ہو۔
۳؎ اس فرمان عالی سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نیک عمل سے مؤمن کو راضی کرنے اور مؤمن کی رضا کے ذریعہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو راضی کرنے کی نیت کرنا شرک نہیں ریا نہیں بالکل جائز ہے۔جب کہ اپنی نامود اور ناموری مقصود نہ ہو۔دوسرے یہ کہ خدا تعالٰی کی رضا صرف حضور کی رضا میں ہے بڑی سے بڑی نیکی جس سے حضور راضی نہ ہوں اس سے خدا تعالٰی ہرگز راضی نہ ہوگا لہذا ہر عبادت میں حضور کو راضی کرنے کی نیت کرنی چاہیے کہ یہ ذریعہ ہے رب کی رضا کا۔
۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ جنت خدا تعالٰی کی خوش نودی سے ملے گی محض اپنے عمل سے نہیں۔