۱؎ مألف مصدر میمی ہے بمعنی اسم فاعل یعنی الفت والا کہ اسے اللہ تعالٰی اس کے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم اور حضور کی امت سے الفت ہوتی ہے اور امت کو اسی سے الفت ہوتی ہے اس کی طرف دل خودبخود کھینچتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ مألف اسم ظرف ہو یعنی مؤمن الفت کی جگہ ہوتا ہے اس میں لوگوں کی الفتیں جمع ہوتی ہیں۔
۲؎ یعنی مسلمانوں سے وہ متنفر ہو اور مسلمان اس سے متنفر ہوں ایسا شخص نورِ ایمانی سے محروم ہے۔خیال رہے کہ مسلمانوں سے الفت رکھنا کچھ اور ہے لوگوں کی شر سے بچنے کے لیے علیٰحدہ رہنا کچھ اور ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ اپنا گھر واپس پکڑو۔