Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
825 - 975
حدیث نمبر 825
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا مؤمن الفت والا ہوتا ہے ۱؎  اور اس میں خیر نہیں جو نہ الفت کرے نہ اس سے الفت والا ہوتا ہے ۱؎ اور اس میں خیر نہیں جو نہ الفت کرے نہ اس سے الفت کی جاوے ۲؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ مألف مصدر میمی ہے بمعنی اسم فاعل یعنی الفت والا کہ اسے اللہ تعالٰی اس کے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم اور حضور کی امت سے الفت ہوتی ہے اور امت کو اسی سے الفت ہوتی ہے اس کی طرف دل خودبخود کھینچتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ مألف اسم ظرف ہو یعنی مؤمن الفت کی جگہ ہوتا ہے اس میں لوگوں کی الفتیں جمع ہوتی ہیں۔

۲؎ یعنی مسلمانوں سے وہ متنفر ہو اور مسلمان اس سے متنفر ہوں ایسا شخص نورِ ایمانی سے محروم ہے۔خیال رہے کہ مسلمانوں سے الفت رکھنا کچھ اور ہے لوگوں کی شر سے بچنے کے لیے علیٰحدہ رہنا کچھ اور ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ اپنا گھر واپس پکڑو۔
Flag Counter