Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
824 - 975
حدیث نمبر 824
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بے شک اللہ تعالٰی نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق تقسیم فرمادیئے ۱؎ جیسے کہ تمہارے درمیان تمہاری روزی بانٹ دی اور اللہ تعالٰی دنیا تو اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت کرتا ہے اور اسے بھی جسے ناپسند فرماتا ہے۲؎  مگر دین اس کو دیتا ہے جس سے محبت کرتا ہے ۳؎  تو جسے اللہ  دین عطا فرمادے تو اس سے محبت کرتا ہے۴؎  اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ بندہ مسلمان نہیں ہوتا حتی کہ اس کا دل و زبان سلامت رہے ۵؎ اور مؤمن نہیں ہوتا حتی کہ اس کا پڑوسی اس کے شر سے امن میں ہو ۶؎
شرح
۱؎ یعنی ظاہر روزیاں جسمانی غذائیں ہیں اور اخلاق و عادات روحانی غذائیں جیسے رب تعالٰی نے جسمانی روزی میں فرق رکھا ہے کہ بعض کی روزی حلال بعض کی حرام بعض کی فراخ بعض کی تنگ،یوں ہی بعض کے اخلاق اعلیٰ بعض کے خراب،اعمال احوال کا بھی یہ ہی حال ہے۔

۲؎ چنانچہ حضرت سلیمان و عثمان بڑے غنی ہیں یوں ہی فرعون،ہامان شداد بڑے مال دار ہیں دنیا ہر جگہ پہنچ سکتی ہے یہ تو حضور کے نام کی نچھاور ہے۔دولہا کی نچھاور دوست دشمن سب لوٹ لیتے ہیں،دنیا مل جانا محبوبیت کی علامت نہیں۔

۳؎  کیونکہ بارات کا کھانا،جوڑے انعام وغیرہ صرف دولہا کے دوستوں اور تعلق والوں ہی کو ملتے ہیں دین کائنات کے دولہا نبی کریم کے تعلق والے ہی پائیں گے۔دین اللہ تعالٰی کی بڑی نعمت ہے اس میں اختلاف ہے کہ غنی شاکر افضل ہے یا فقیر صابر۔

۴؎  یعنی کسی کو اچھے عقیدے اچھے اعمال کی توفیق ملنا اس کی علامت ہے کہ رب تعالٰی اس سے محبت کرتا ہے اپنی خاص نعمت خاص غلاموں کو دی جاتی ہے۔

۵؎  یعنی مؤمن کامل وہ ہی ہوگا جس کا دل بدعقیدگیوں،حسد،کینہ سے پاک و صاف ہو،سینہ کینہ سے پاک رکھو تاکہ اس میں انوار مدینہ جلوہ گر ہوں۔بہرحال عبادت سے زیادہ اہم معاملات ہیں اللہ تعالٰی ہمارے معاملات درست کرے۔

۶؎  چونکہ پڑوسی سے ہر وقت معاملہ رہتا ہے اس لیے زیادہ تعلق اسی سے ہوتا ہے جب پڑوسی ہی راضی ہو تو دوسرے لوگ بدرجہ اولیٰ راضی ہوں گے۔
Flag Counter