Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
823 - 975
حدیث نمبر 823
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں رسول اللہ کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے فرمایا کہ کیا میں تمہیں اچھوں بروں کی خبر نہ دوں ۱؎  راوی نے کہا کہ حاضرین خاموشی رہے ۲؎  تو یہ تین بار فرمایا۳؎ تو ایک شخص نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ ہم کو ہمارے برے بَھلوں کی خبر دیجئے ۴؎ تو فرمایا کہ تمہارا بھلا وہ شخص ہے جس کی خیرکی ۵؎  امید کی جاوے اور اس کے شر سے اطمینان کیا جاوے اور تمہارا برا وہ شخص ہے جس کی خیر کی امید نہ کی جاوے اور اس کے شر سے امن نہ ہو ۶؎(ترمذی،بیہقی شعب الایمان)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے ۷؎
شرح
۱؎ یعنی حضور انور ایک مجلس صحابہ میں گزرے تو وہاں کھڑے ہوگئے پھرٹھہر گئے اور پہلے لوگوں سے یہ سوال فرمایا تاکہ ترغیب بعد تعلیم ہو اور دلوں میں جم جاوے۔

۲؎  یہ حضرات سمجھے کہ حضور انور ہمارے نام لے کر فرمائیں گے کہ فلاں اچھا ہے فلاں برا جس سے ہمارے پردہ فاش ہوجائیں گے اس لیے خاموشی بہتر ہے تاکہ ہمارے پردے رہیں۔

۳؎  حضور انور کا منشا یہ تھا یہ حضرات خود اشتیاق ظاہر کریں تو ہم بتائیں تاکہ یہ حضرات اشتیاق کا ثواب پائیں اور ہمارا کلام بغور سنیں اس لیے بار بار سوال فرمایا اور خود ہی بیان نہ فرمادیا حضور وہ  سخی ہیں  جو تقاضے کر کر کے فقیروں کو بھیک دیتے ہیں۔

۴؎  ان صاحب نے محسوس فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو اس فرمان عالی کی رغبت ہے اور حضور فرمانا چاہتے ہیں اس رغبت میں رب تعالٰی کی حکمت ہے لہذا عرض کیا کہ حضور ضرور فرمائیں حضور کی اس خواہش میں ہمارا بھلا ہی ہوگا۔

۵؎  یعنی قدرتی طور پر لوگوں کے دلوں میں اس کی طرف سے اطمینان ہو کہ یہ شخص کسی کو تکلیف نہیں دیتا ہوسکتا ہے تو خیر ہی کرتا ہے۔

۶؎  یعنی قدرتی طور پر لوگ اس سے ڈرتے ہوں کہ یہ شخص خطرناک ہے اس سے بچو اس سے خیر نہ پہنچے گی شر ہی پہنچے گی۔معلوم ہوا کہ لوگوں کے دل ان کی زبان رب کا قلم ہیں لہذا جسے عام طور پر لوگ ولی کہیں وہ عنداللہ ولی ہی ہے۔

۷؎  اس حدیث کو مختلف عبارتوں سے ابویعلی،احمد،ترمذی،ابن حبان،ابن عساکر وغیرہم نے مختلف صحابہ کرام سے روایت کیا۔(مرقات)
Flag Counter