Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
822 - 975
حدیث نمبر 822
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ  فلاں بی بی اس کی نماز روزے صدقات کی فراوانی کا چرچا ہےبجز اس کے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کو اپنی زبان سے ستاتی ہے ۱؎ فرمایا کہ وہ آگ میں ہے ۲؎ عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تو وہ فلاں عورت اس کی نماز روزے صدقات کی کمی کا ذکر ہوتا ہے۳؎  وہ تو پنیر کے کچھ ٹکڑے ہی خیرات کرتی ہے۴؎  اور وہ اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف نہیں دیتی فرمایا وہ جنتی ہے ۵؎ (احمد،بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎  شاید کہنے والے نے اس بی بی کا نام لیا ہوگا مگر راوی کو یاد نہ رہا یا عمدًا نام نہ لیا تاکہ اس مؤمنہ کی رسوائی ہو۔زبان کا ذکر اس لیے کیا اکثر لوگ دوسروں کو زبانی تکلیف دیتے ہیں لڑنا بھڑنا غیبت چغلی کرنا وغیرہ زبان کا زخم سنان یعنی بھالے کے زخم سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے کہ یہ مرہم سے بھرجاتا ہے مگر وہ نہیں بھرتا۔حضرت علی فرماتے ہیں

جراحات السنان لہا التیام 	ولا یلتام ما جرح اللسان

کسی اردو شاعر نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے

چھری کا تیر کا تلوار کا تو گھاؤ بھرا 	لگا جو زخم زبان کا رہا ہمیشہ ہرا

۲؎ یعنی یہ کام دوزخیوں کے ہیں اگر یہ عبادت گزار بی بی اپنی تیز زبان سے توبہ نہ کرے گی تو اولًا دوزخ میں جاوے گی،نوافل سے لوگوں کے حق معاف نہیں ہوتے،پھر سزا بھگت کر جنت میں جاوے گی لہذا یہ حدیث اس قانون کے خلاف نہیں کہ صحابہ تمام ہی عادل ہیں کوئی فاسق نہیں،بعض حضرات صحابہ سے گناہ  ہوئے  مگر  وہ قائم نہ رہے توبہ کرکے دنیا سے گئے۔

۳؎  یعنی وہ نفلی نماز نفلی صدقے کم کرتی ہے فرضی نماز میں کمی مراد نہیں کہ یہ تو فسق ہے صحابہ کرام فسق سے محفوظ ہیں۔

۴؎  مطلب یہ ہے کہ وہ بی بی صاحبہ مسکین غریب ہیں معمولی چیز یعنی کچھ پنیر ہی خیرات کرسکتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ نفلی عبادات کی کمی مراد ہے کہ پنیر کے ٹکڑے قطرے زکوۃ وغیرہ میں خیرات نہیں کیے جاتے صرف نفلی صدقات میں دیئے جاتے ہیں۔

۵؎ اس فرمان عالی سے ہم لوگوں کے کان کھل جانے چاہئیں ہم میں سے بہت لوگ اصول چھوڑکر فضول میں کوشش کرتے ہیں فرائض کی پرواہ نہیں نوافل پر زور،معاملات خراب وظیفوں چلوں کا اہتمام،دوا کے ساتھ پرہیز ضروری ہے۔
Flag Counter