| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ فلاں بی بی اس کی نماز روزے صدقات کی فراوانی کا چرچا ہےبجز اس کے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کو اپنی زبان سے ستاتی ہے ۱؎ فرمایا کہ وہ آگ میں ہے ۲؎ عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تو وہ فلاں عورت اس کی نماز روزے صدقات کی کمی کا ذکر ہوتا ہے۳؎ وہ تو پنیر کے کچھ ٹکڑے ہی خیرات کرتی ہے۴؎ اور وہ اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف نہیں دیتی فرمایا وہ جنتی ہے ۵؎ (احمد،بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ شاید کہنے والے نے اس بی بی کا نام لیا ہوگا مگر راوی کو یاد نہ رہا یا عمدًا نام نہ لیا تاکہ اس مؤمنہ کی رسوائی ہو۔زبان کا ذکر اس لیے کیا اکثر لوگ دوسروں کو زبانی تکلیف دیتے ہیں لڑنا بھڑنا غیبت چغلی کرنا وغیرہ زبان کا زخم سنان یعنی بھالے کے زخم سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے کہ یہ مرہم سے بھرجاتا ہے مگر وہ نہیں بھرتا۔حضرت علی فرماتے ہیں جراحات السنان لہا التیام ولا یلتام ما جرح اللسان کسی اردو شاعر نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے چھری کا تیر کا تلوار کا تو گھاؤ بھرا لگا جو زخم زبان کا رہا ہمیشہ ہرا ۲؎ یعنی یہ کام دوزخیوں کے ہیں اگر یہ عبادت گزار بی بی اپنی تیز زبان سے توبہ نہ کرے گی تو اولًا دوزخ میں جاوے گی،نوافل سے لوگوں کے حق معاف نہیں ہوتے،پھر سزا بھگت کر جنت میں جاوے گی لہذا یہ حدیث اس قانون کے خلاف نہیں کہ صحابہ تمام ہی عادل ہیں کوئی فاسق نہیں،بعض حضرات صحابہ سے گناہ ہوئے مگر وہ قائم نہ رہے توبہ کرکے دنیا سے گئے۔ ۳؎ یعنی وہ نفلی نماز نفلی صدقے کم کرتی ہے فرضی نماز میں کمی مراد نہیں کہ یہ تو فسق ہے صحابہ کرام فسق سے محفوظ ہیں۔ ۴؎ مطلب یہ ہے کہ وہ بی بی صاحبہ مسکین غریب ہیں معمولی چیز یعنی کچھ پنیر ہی خیرات کرسکتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ نفلی عبادات کی کمی مراد ہے کہ پنیر کے ٹکڑے قطرے زکوۃ وغیرہ میں خیرات نہیں کیے جاتے صرف نفلی صدقات میں دیئے جاتے ہیں۔ ۵؎ اس فرمان عالی سے ہم لوگوں کے کان کھل جانے چاہئیں ہم میں سے بہت لوگ اصول چھوڑکر فضول میں کوشش کرتے ہیں فرائض کی پرواہ نہیں نوافل پر زور،معاملات خراب وظیفوں چلوں کا اہتمام،دوا کے ساتھ پرہیز ضروری ہے۔