| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے ایک بوڑھی سے فرمایا ۱؎ کہ جنت میں بوڑھی نہ جائے گی وہ بولی ان کا کیا بنے گا ؟ ۲؎ وہ قرآن پڑھتی تھی ۳؎ فرمایا کیا تم قرآن میں نہیں پڑھتی کہ ہم انہیں پیدا کریں گے دوبارہ پیدائش تو انہیں کنواریاں بنادیں گے۴؎(رزین)اور شرح سنہ میں مصابیح کے لفظ سے ہے۔
شرح
۱؎ ان بی بی صاحبہ نے حضور انور سے جنت کی دعا کرائی تب یہ فرمایا یہ بی بی صاحبہ غالبًا حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب ہیں حضور انور کی پھوپھی حضرت زبیر ابن عوام کی والدہ یہ واقعہ دو بار ہوا ہے: ایک بار حضرت صفیہ سے یہ فرمایا تھا،دوسری بار کسی اور بی بی صاحبہ سے رضی اللہ عنہما۔ نہ معلوم یہ کس واقعہ کا ذکر ہے۔(مرقات) ۲؎ یعنی بوڑھی عورتیں مؤمنہ صالحہ ہوتی ہیں پھر بھی اگر وہ جنت میں نہ جائیں تو کہاں جائیں گی انہوں نے بہت مایوسی و تعجب سے یہ سوال کیا۔ ۳؎ یعنی وہ بی بی صاحبہ قرآن مجید کی عالمہ ،نہایت ذکیہ ،صاحب فھم تھیں تب ہی انہوں نے حضور انور سے یہ سوال کیا تھا۔ ۴؎ یعنی جب وہ بوڑھی عورتیں جنت میں جانے لگیں تو بوڑھی نہ رہیں گی بلکہ نوجوان بنا دی جاویں گی ہمیشہ کنواریاں رہیں گی لہذا ہم ذات کی نفی کرتے نہیں صفت بڑھاپے کی نفی فرماتے ہیں۔جنتی عورتوں کی عمر تیس یا تینتیس سال ہوگی یہ ہی عمر ہمیشہ رہے گی۔بعض مفسرین نے"اِنَّاۤ اَنۡشَاۡنٰہُنَّ" کی ضمیر حوروں کی طرف راجع کی ہے مگر اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کی ساری عورتیں خواہ حوریں ہوں یا دنیا کی بیویاں سب کی طرف لوٹ رہی ہے سب کی عمر یہ ہی ہے۔
حدیث نمبر 818
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا یارسول اللہ میں کیسے جانوں جب کہ میں بھلائی کروں یا جب کہ میں برائی کروں ۱؎ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے سنو کہ تم نے بھلائی کی تو واقعی تم نے بھلائی کی اور جب تم انہیں کہتے سنو کہ تم نے برائی کی تو واقعی تم نے برائی کی۲؎(ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی مجھے تو اپنے سارے کام ہی اچھے معلوم ہوتے ہیں مگر واقعہ میں اچھے کام اور برے کام کی علامت کیا ہے، یہاں کام سے مراد معاملات ہیں۔عقائد،عبادات میں کسی سے اچھا برا کہنے کا اعتبار نہیں۔ ۲؎ یعنی معاملات میں اچھائی برائی کی علامت یہ ہے کہ تمہارے سارے پڑوسی قدرتی طور پر تم کو اچھا کہیں یا برا کہیں قدرتی بات ہے کہ بعض بندوں کے لیے خود بخود منہ سے اچھائی نکلتی ہے حضور فرماتے ہیں انتم شھداء اللہ فی الارض۔مسلمانوں کی زبان رب کا قلم ہے پڑوسی چونکہ ڈھکے حالات سے خبردار ہوتے ہیں اس لیے یہاں پڑوسیوں کی قید لگائی گئی ورنہ اپنے متعلق خود فیصلہ نہ کرو کہ ہم اچھے ہیں یا برے،مخلوق کی زبان سے وہی نکلتا ہے جو رب نکلواتا ہے۔آج بعض قبر والوں کو لوگ ولی اللہ کہہ رہے ہیں ان کے مزارات پر میلے لگے ہوتے ہیں حالانکہ کسی نے ان کو دیکھا بھی نہیں یہ ہے خلق کی زبان۔
شرح