۱؎ یعنی تمہارے پاس جس حیثیت کا آدمی آوے اس کی تواضع خاطر،اعزاز و اکرام اس کی حیثیت کے لائق کرو، حضرت عائشہ صدیقہ کھانا کھارہی تھیں ایک اجنبی سائل دروازے سے گزرا آپ نے اسے روٹی کا ٹکڑا بھیج دیا، ایک اجنبی گھوڑا سوار گزرا تو آپ نے اس سے کہلا کر بھیجا کہ اگر آپ کو کھانے کی خواہش ہو تو کھانا حاضر ہے،کسی نے ام ا لمؤمنین سے اسی فرق کی وجہ سے پوچھی تو آپ نے یہ ہی حدیث پڑھی معاملات عقائد بلکہ عبادات میں فرق مراتب کرنا ضروری ہے۔مصرع گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی
یہ واقعہ اشعۃ اللمعات نے بحوالہ احیاء العلوم نقل فرمایا۔