| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کا آئینہ ہے ۱؎ کہ اگر اس میں برائی دیکھے تو اس سے دفع کردے ۲؎(ترمذی)اور اسے ضعیف کہا اور اس کی ایک روایت میں ہے کہ مؤمن مؤمن کا آئینہ ہے،مؤمن مؤمن کا بھائی ہے کہ اس سے اس کی ہلاکت دفع کرتا ہے اور اس کے پیچھے اس کی حفاظت کرتا ہے۳؎
شرح
۱؎ جیسے آئینہ چہرے کے سارے عیب و خوبیاں ظاہرکردیتا ہے ایسے ہی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے عیب پر اسے مطلع کرتا رہے تاکہ وہ اپنی اصلاح کرے۔غرضکہ رسوائی کرنا ممنوع ہے اصلاح کرنا ثواب،پچھلی حدیث میں رسوائی کی ممانعت تھی اسی حدیث میں اصلاح کا حکم ہے۔ ۲؎ اسے خبر دے کر یا اس کے لیے دعا خیرکرکے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اللہ اس پر رحم کرے جو مجھے میرے عیوب پر مطلع کرےعیوب فرماکر بتایا کہ ہمارا نفس عیبوں کا سرچشمہ ہے یا یہ مطلب ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ ان مؤمنوں کے پاس بیٹھا کریں جن کے ذریعہ انہیں اپنے عیوب پر اطلاع ہو۔آئینہ اس لیے دیکھتے ہیں کہ اپنے چہرے کے چھوٹے بڑے داغ دھبہ نظر آجاویں۔طبیب کے پاس اسی لیے جاتے ہیں کہ وہاں علاج ہوجاوے ایسے مؤمنوں کی صحبت اکسیر ہے۔اس لیے صوفیاء فرماتے ہیں کہ ہمیشہ اپنے مریدوں اپنے شاگردوں کے پاس نہ بیٹھو جو ہر وقت تمہاری تعریفیں ہی کرتے ہیں بلکہ کبھی کبھی اپنے مرشدوں اپنے استادوں اپنے بزرگوں کے پاس بھی بیٹھو جہاں تمہیں اپنی کمتری نظر آوے۔ہاتھی پہاڑ کو دیکھ کر اپنی حقیقت کو پہنچانتا ہے،ہمیشہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی عظمتوں میں غور کیا کرو تاکہ اپنی گنہگاری اپنی کمتری محسوس ہوتی رہے۔محققین صوفیاء اس حدیث کے یہ معنی کرتے ہیں کہ مؤمن جب کسی مسلمان میں عیب دیکھے تو سمجھے کہ یہ عیب مجھ میں ہے جو اس کے اندر مجھے نظرآرہا ہے جیسے آئینہ میں اپنے جو داغ دھبے نظر آتے ہیں وہ اپنے چہرے کے ہوتے ہیں نہ کہ آئینہ کے یہ معنی نہایت عارفانہ ہیں۔(اشعۃ اللمعات)اس لیے اگر خواب میں حضور انور کی زیارت ہو مگر شکل مبارک یا لباس خوشنما نہ ہو تو سمجھ لو کہ ہمارا اپنے دل کا حال خراب ہے اصلاح کرو۔اس صورت میں فلیمط عنہ کے معنی یہ ہوئے کہ مؤمن کے ذریعہ اپنے عیب معلوم کر کے اپنے عیوب دفع کرو۔ ۳؎ یعنی مؤمن کی شان یہ ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کی پس پشت خیرخواہی کرے حتی کہ اگر کوئی اس کی غیبت کرے تو یا اسے غیبت سے روک دے یا اس کا جواب دے کر مؤمن کی عزت بچالے یا اسے سمجھا بجھاکر اس کی اصلاح کرے یا اس کے لیے اصلاح کی دعا کرے۔(مرقات)