۱؎ وہ عیب جو کسی مسلمان کے حق سے متعلق نہ ہو اور یہ شخص اسے لوگوں سے چھپانا چاہتا ہو،بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے مراد مسلمان مرد یا عورت کا ستر ہے یعنی کسی کو ننگا دیکھے تو اسے کپڑا پہنادے ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی مراد ہوں۔
۲؎ اس طرح کہ خود اس سے کہہ دے کہ دیکھ آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا ورنہ پھر تیری خیر نہ ہوگی اور لوگوں سے چھپالے تاکہ تبلیغ بھی ہوجائے اور مسلمان کی پردہ پوشی بھی لیکن اگر یہ شخص کسی قتل یا نقصان کی خفیہ سازش کر رہا ہے تو ضرور اس کی اطلاع اس کو کر دے تاکہ وہ نقصان سے بچ جاوے یا اگر یہ شخص عادی مجرم بن چکا ہے تو اس کا اعلان کردے لہذا اس فرمان عالی کا یہ مقصد نہیں کہ خفیہ چور قاتل کے جرم چھپاؤ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان نہایت ہی جامع ہوتا ہے۔
۳؎ یعنی اس پردہ پوشی کا ثواب ایسا ہے جیسے کسی زندہ دفن شد بچی کو قبر سے نکال کر ان کی جان بچالینا کیونکہ مسلمان کی آبرو اس کی جان کی طرح قابل احترام ہے۔بہرحال مسلمان کی جاتی ہوئی عزت بچانا بڑا ہی ثواب ہے مگر وہ قیود خیال میں رہیں جو ہم نے عرض کیں۔