| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا جس کے پاس اس کے مسلمان بھائی کی غیبت کی جاوے ۱؎ اور وہ اس کی مدد پر قادر ہو پھر وہ اس کی مدد کرے۲؎ تو اللہ اس کی دنیا و آخرت میں مدد کرے گا۳؎ لیکن اگر مدد پر قادر ہوتے اس کی مدد نہ کرے تو اللہ اس جرم پر اسے دنیا و آخرت میں پکڑے گا ۴؎(شرح سنہ)
شرح
۱؎ یعنی اس کے سامنے کسی مسلمان کی غیبت کی جاوے خواہ وہ اس کا عزیز ہو یا اجنبی۔ ۲؎ یا اس طرح کہ غیبت کرنے والوں کو غیبت سے روک دے یا اس طرح کہ ان کی غیبت کا جواب دے دے یا اس طرح کہ اس غائب شخص کے اوصاف بیان کردے اسے بدنامی سے بچاکر نیک نام کردے،آج کل لوگ غیبت سنتے رہتے ہیں پھر اس غائب شخص کو آکر بتاتے ہیں کہ تجھے فلاں شخص نے یہ کہا تھا یہ ممنوع ہے کہ اس صورت میں اس کے دل کو تکلیف اس نے پہنچائی غیبت کرنے والوں نے تیر چلایا اس نے وہ تیر اس تک پہنچایا اس کے جسم میں چبھویا۔ ۳؎ کیونکہ اس نے اللہ کے بندے کی پس پشت مدد کی محض اللہ کے لیے اور رب تعالٰی اپنے بندے کا بدلہ خود دیتا ہے دنیاوی آفات اخروی مصیبتوں سے بچانا اللہ کی بڑی ہی مہربانی ہے۔ ۴؎ یعنی جو کوئی مسلمان بھائی کی عزت و آبرو نہ بچائے بلکہ ذلیل کرنے والوں کے ساتھ شریک ہوجاوے تو اللہ تعالٰی اس بندے کا بدلہ خود لے گا کہ اسے دنیاو آخرت میں ذلیل کرے گا جب اس پر کوئی آفت بنے گی تو اسے دفع نہ کرے گا۔