۱؎ یعنی اپنی اولاد کو ایک اچھی بات سکھانا خیرات کرنے سے افضل ہے کہ ایک صاع(ٹوپہ)ایک دن میں کھا کر ختم کیا جائے مگر ایک نیک بات کا فائدہ بچے کو عمر بھر پہنچے گا،اپنی لڑکیوں کو مال جہیز دینے سے بہتر یہ ہے کہ اعمال جہیز دیا جاوے،انہیں ایسی تعلیم و تربیت دو کہ وہ اپنی سسرال اپنی اولاد کو سنبھال لیں ہم نے ایسی لڑکیاں دیکھی ہیں جنہوں نے سسرال پہنچ کر سسرال کی کایا پلٹ دی سب کو ٹھیک کردیا۔
۲؎ یعنی یہ حدیث صرف ایک ہی اسناد سے مروی ہے اور اس اسناد میں ایک راوی ناصح بھی ہے جو حافظہ کا کمزور تھا اس لیے یہ حدیث ضعیف ہے مگر چونکہ یہ حدیث فضائل اعمال کی ہے لہذا قبول ہے کہ فضائل میں حدیث ضعیف قبول ہوتی ہے اس حدیث کی تائید احادیث صحیحہ اور آیات قرآنیہ سے ہے۔طبرانی نے باسناد حسن مرفوعًا روایت کی کہ اللہ تعالٰی تمہارے ذریعہ ایک کو ہدایت دیدے تو تمہارے لیے ساری دنیا سے افضل ہے اسی طرح آیات قرآنیہ میں اس کی تائید ہے۔(مرقات)