| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو کسی یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شامل کرے ۱؎ تو اللہ اس کے لیے جنت یقینی طور پر لازم فرمادیتا ہے مگر یہ کہ کوئی ایسا گناہ کرے جو ناقابلِ بخشش ہو ۲؎ اور جو تین بیٹیاں یا ان کی مثل بہنوں کی پروش کرے کہ انہیں ادب سکھائے ان پر مہربانی کرے حتی کہ اللہ انہیں بے نیاز کردے تو اللہ اس کے لیے جنت واجب کردیتا ہے۳؎ تو ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ اور دو کو فرمایا دو کو حتی کہ اگر لوگ کہتے یا ایک کو تو حضور فرما دیتے ایک کو۴؎ اور اللہ جس کی پیاری دو چیزیں دور کردے اس کے لیے جنت واجب ہوگئی عرض کیا یارسول اللہ دو پیاری چیزیں کیا ہیں فرمایا اس کی دونوں آنکھیں ۵؎(شرح السنہ)
شرح
۱؎ کھانے پانی میں شامل کرنا عام ہے خواہ اسے اپنے ساتھ کھلائے پلائے یا اسے اپنے گھر میں رکھ کر اس کی پرورش کرے یا یتیم خانہ بنا کر ان پر خرچ کرے۔اب تو یتیم خانہ والے یتیموں سے بھیک منگواتے ہیں مسلمانوں میں بھکاریوں کی تعداد بڑھاتے ہیں۔ ۲؎ یعنی شرک و کفر کہ یہ گناہ قابل بخشش نہیں،رب فرماتاہے:"اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَبِہٖ "اسی طرح حقوق العباد بھی کسی نیک عمل سے معاف نہیں ہوتے وہ تو ادا کرنا ہی پڑیں گے یا حق والے سے معاف کرانا ہوں گے۔(مرقات) ۳؎ عمومًا بیٹوں سے دنیاوی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں کہ یہ جوان ہوکر ہماری خدمت کریں گے ہمیں کما کر کھلائیں گے لڑکیوں سے یہ امید نہیں ہوتی اس لیے لڑکیوں کا پالنا ان پر صبرکرنا ثواب ہے۔لڑکیاں خواہ بیٹیاں ہوں خواہ بہنیں انہیں سکھانے سے مراد ہے علم دین سکھانا،سینا،پرونا اور جن ہنروں کی انہیں ضرورت ہے وہ سکھانا جس سے وہ کسی محتاج نہ رہیں۔ ۴؎ اس جواب سے معلوم ہورہا ہے کہ اللہ کی رحمتیں اور اس کی بخشش حضور کے قبضہ میں دی گئی ہیں جس نعمت کو چاہیں عام فرمادیں(مرقات)دیکھو جو وعدہ تین لڑکیوں کے پالنے پر کیا گیا تھا ایک امتی کے سوال پر وہ ہی وعدہ دو بیٹیوں کے پالنے پر ہوگیا یہ ہے حضور کا مختار من اللہ ہونا۔حضور کے مختار کل ہونے کے دلائل ہماری کتاب سلطنت مصطفی میں ملاحظہ کرو۔ ۵؎ آنکھوں سے مراد آنکھوں کی روشنی ہے اگرچہ تمام اعضاء اللہ کی نعمت ہیں اور ہم کو پیاری مگر آنکھیں وہ نعمت ہیں جن کی مدد سے سارے اعضاء کام کرتے ہیں،آنکھوں کے بغیر انسان محض دیوار بن کر رہ جاتا ہے اس پر صبرکرنا بہت ہی ثواب ہے،اللہ تعالٰی اپنے فضل و کرم سے حضور کے صدقہ سے ہماری آنکھیں بھی رکھے اور ثواب بھی عطا فرمائے وہ تو بڑا کریم ہے۔