Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
807 - 975
حدیث نمبر 807
روایت ہے حضرت ایوب ابن موسیٰ سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کسی باپ  نے اپنے بچے کو ایسا عطیہ نہیں دیا جو اچھے ادب سے بہتر ہو ۲؎(ترمذی،بیہقی شعب الایمان)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث مرسل ہے۳؎
شرح
۱؎ ایوب ابن موسیٰ ابن اشدق عمرو ابن سعید ابن عاص ابن امیہ تابعی ہیں،فقہاء میں سے ہیں،عطاء اور مکحول سے روایت کرتے ہیں،یہاں دادا سے مراد عمرو ابن سعید یا سعید ابن عاص ہیں،سعید ابن عاص ہجرت کے سال پیدا ہوئے،عثمان غنی کے زمانہ میں قرآن جمع کرنے والوں میں آپ بھی تھے،عہد عثمانی میں کوفہ کے گورنر رہے،طبرستان کے فاتح آپ ہی ہیں،        ۵۹؁  انسٹھ میں وفات ہوئی۔(مرقات و اشعہ)

۲؎ اچھے ادب سے مراد بچے کو دیندار متقی پرہیزگار بنانا ہے اولاد کے لیے اس سے اچھا عطیہ کیا ہوسکتا ہے کہ یہ چیزیں دین و دنیا میں کام آتی ہیں۔ولد میں لڑکیاں لڑکے دونوں ہی داخل ہیں،ماں باپ  کو چاہیے کہ اولاد کو صرف مالدار بنا کر دنیا سے نہ جائیں انہیں دیندار بناکر جائیں جو خود انہیں بھی قبر میں کام آوے کہ زندہ اولاد کی نیکیوں کا ثواب مردہ کو قبر میں ملتا ہے۔

۳؎  عن جدہ میں دو احتمال ہیں: ایک یہ کہ اس سے ایوب کے دادا مراد ہوں یعنی عمرو ابن سعید تب تو  یہ حدیث مرسل ہےکہ عمرو بھی صحابی نہیں تابعی ہیں۔دوسرے یہ کہ  ایوب کے والد کے دادا   سعید ابن عاص مراد ہیں تو حدیث متصل ہے کہ سعید ابن عاص صحابی ہیں،امام ترمذی نے جدہ سے مراد ایوب کے دادا عمرو ابن سعید لیے اس لیے مرسل کہا۔
Flag Counter