| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے ۱؎ نہیں پھیرتا مگر اللہ کےلئے ہر بال کے عوض جس پر اس کا ہاتھ پھرے نیکیاں ہوں گی ۲؎ اور جو اپنے پاس رہنے والے یتیم یا یتیمہ سے بھلائی کرے جنت میں میں اور وہ ان کی طرح ہوں گےاور اپنی دو انگلیاں ملائیں ۳؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ ہاتھ پھیرنا محبت کے ساتھ ہو یا اس سے مراد ہے مطلقًا معمولی سی مہربانی حقیر سی محبت مگر پہلے معنی زیادہ موزوں ہیں،یتیم کے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرنا بھی عبادت ہے۔ ۲؎ حدیث بالکل ظاہر معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں واقعی جو شخص اپنے عزیز یا اجنبی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے محبت و شفقت کا یہ محبت صرف اللہ رسول کی رضا کے لیے ہو تو ہر بال کے عوض اسے نیکی ملے گی۔یہ ثواب تو خالی ہاتھ پھیرنے کا ہے جو اس پر مال خرچ کرے،اس کی خدمت کرے،اسے تعلیم و تربیت دے سوچ لو کہ اس کا ثواب کتنا ہوگا۔ ۳؎ یعنی وہ جنت میں میرا ساتھی یا پڑوسی ہوگا جیسے بادشاہ کے خدام بادشاہ کی کوٹھی میں ہی رہتے ہیں مگر خادم ہوکر ایسے ہی وہ بھی میرے ساتھ رہے گا مگر میرا امتی غلام ہوکر۔یہاں بھی احسن مطلق ہے یتیم بچہ سے کسی قسم کا سلوک ہو ثواب کا باعث ہے۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم خود یتیم تھے اس لیے یتیم کی خدمت بڑی ہی اعلیٰ ہے۔مصرع! یتیم ہو کے یتیموں کو پالنے والے۔ دو انگلیوں سے مراد کلمہ کی اور بیچ کی انگلی مراد ہے جن میں فاصلہ بالکل نہیں۔