۱؎ سفید ڈاڑھی والے مسلمان کا احترام،خود رب تعالٰی فرماتا ہے کہ جب وہ دعا کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے تو وہ کریم اس سے شرم فرماتا ہے کہ ان ہاتھوں کو خالی پھیرے تو بندہ اس کا احترام کیوں نہ کرے۔حامل قرآن میں حافظ،عالم دین،قاری،مفسر،ہمیشہ تلاوت کرنے والا سب ہی داخل ہیں سب کا احترام چاہیے۔(مرقات)
۲؎ یعنی وہ حامل قرآن وہ عالم و حافظ قابلِ تعظیم ہیں جو بدمذہب بیدین نہ ہو جو قرآن کو لوگوں کے گمراہ کرنے کا ذریعہ بنائیں اس کی غلط تاویلیں کریں،اس میں خیانتیں کریں،اس کے ذریعہ مسلمانوں میں فتنہ فساد پھیلائیں ان پر تو خدا تعالٰی کی بھی پھٹکار ہے بندوں کی بھی۔(مرقات)شعر
حافظا میخوردرندی کن و خوش باش وے دام تزدیر مکن چوں دگراں قرآن را
احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر تاویل سے کرسکتے ہیں قرآن پاژند
۳؎ منصف حاکم عدل والا بادشاہ اللہ کی رحمت ہے جس کے سایہ میں اللہ کی مخلوق آرام پاتی ہے وہ رعایا کے لیے مثل مہربان والد کے ہے اس لیے اس کا احترام ضروری ہے۔