۱؎ یعنی جو شخص بوڑھے مسلمان کا صرف اس لیے احترام کرے کہ اس کی عمر زیادہ ہے،اس کی عبادات مجھ سے زیادہ ہیں،یہ مجھ سے پرانے اسلام والا ہے تو ان شاءاللہ دنیا میں وہ دیکھ لے گا کہ اس کے بڑھاپے کے وقت لوگ اس کا احترام کریں گے۔اس وعدے میں فرمایا گیا کہ ایسا آدمی دراز عمر بھی پائے گا دنیا میں مال،عیش، عزت بھی اسے ملے گی آخرت کا اجر اس کے علاوہ ہے۔خود اس حدیث کے راوی حضرت انس نے حضور کی دس سال خدمت کی دیکھ لو کہ ان کی عمر ایک سو تین سال ہوئی ان کی زندگی میں ان کی اولاد کی تعداد ایک سو ہوئی یعنی اولاد اور اولاد کی اولاد ایک مخلوق نے ان سے احادیث روایت کیں،جہاں پہنچ جاتے تھے لوگ ان کی زیارت کے لیے جمع ہوجاتے تھے۔(مرقات)یہ ہے اس حدیث کا ظہور اور اس وعدہ نبوی کی جیتی جاگتی تصویر و تفسیر۔