۱؎ یعنی ہماری جماعت سے یا ہمارے طریقہ والوں سے یا ہمارے پیاروں سے نہیں یا ہم اس سے بیزار ہیں وہ ہمارے مقبول لوگوں میں سے نہیں،یہ مطلب نہیں کہ وہ ہماری امت یا ہماری ملت سے نہیں کیونکہ گناہ سے انسان کافر نہیں ہوتا ہاں جو حضرات انبیاء کرام کی توہین کرے وہ اسلام سے خارج ہے۔
۲؎ یعنی اپنے سے چھوٹوں پر رحم نہ کرے،اپنے سے بڑوں کا ادب نہ کرے،چھوٹائی بڑائی خواہ عمر کی ہو خواہ علم کی خواہ درجہ کی یہ فرمان بہت عام ہے۔خیال رہے کہ صغیرنا اور کبیرنا فرماکر یہ بتایا کہ چھوٹے بڑے مسلمانوں کا ادب ان پر رحم چاہیے یہ قید بھی زیادتی اہتمام کے لیے ہے ورنہ کافر ماں باپ کا بھی مادری ادب کافر چھوٹے بھائی پر بھی قرابت داری کا رحم چاہیے جیساکہ فقہاء کے فرامین اور دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے یوں ہی ان کے حقوق قرابت ادا کرے۔(اشعہ)
۳؎ ہرشخص اپنی طاقت اور اپنے علم کے مطابق دینی احکام لوگوں میں جاری کرے یہ صرف علماء کا ہی فرض نہیں سب پر لازم ہے۔حاکم ہاتھ سے برائیاں روکے،عالم عام زبانی تبلیغ سے یہ فرض انجام دے فی زمانہ اس سے بہت غفلت ہے۔