روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے سچے اور سچے کیے ہوئے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ رحمت نہیں نکالی گئی مگر بدبخت سے ۱؎(احمد،ترمذی)
شرح
۱؎ یہاں بھی رحمت میں بڑی گنجائش ہے اپنے پر رحم کرنا کہ گناہوں سے بچنا مسلمانوں پر رحم کرنا بلکہ کفار پر رحم کرنا کہ انہیں دعوتِ اسلام دینا بلکہ جانوروں پر رحم کرنا کہ ان کے دانہ پانی کا خیال رکھنا۔مقصد یہ ہے کہ بدبخت کی علامت یہ ہے کہ اس کا دل سخت ہوتا ہے اسے کسی پر رحم نہیں آتا لہذا نیک بخت کی علامت یہ ہے کہ وہ نرم دل ہوتا ہے سب پر رحم کرتا ہے۔