۱؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابہ سے ایمان تقویٰ پر بھی بیعت لیتے تھے اور نیک اعمال پربھی یعنی میری معرفت رب تعالٰی سے یہ وعدہ کرو کہ ہم نیک اعمال کریں گے گناہوں سے بچیں گے۔بیعت کی بہت قسمیں ہیں یہاں بیعت اعمال مراد ہے۔بیعت کی اقسام ہماری کتاب شانِ حبیب الرحمن کے ضمیمہ میں ملاحظہ کرو۔ ایک بار حضرت جریر نے ایک شخص سے گھوڑا تین سو درہم میں خریدا سودا طے ہوجانے پر فرمایا کہ تیرا گھوڑا زیادہ قیمت کا ہے اچھا چارسو دوں گا پھر کہا نہیں پانچ سو دوں گا حتی کہ آٹھ سو درہم تک بڑھا کر خرید لیا بائع حیران ہوکر بولا حضرت یہ کیا فرمایا میں نے حضور سے بیعت کی ہے ہر مسلمان کی خیر خواہی پر۔یہ اس پر عمل ہے۔(مرقات)