Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
796 - 975
حدیث نمبر 796
روایت ہے حضرت تمیم داری سے ۱؎ کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ دین خیر خواہی ہے ۲؎ تین بار فرمایا ہم نے عرض کیا کہ کس کی فرمایا اللہ کی۳؎  اس کی کتاب کی ۴؎  اور اس کے رسول کی ۵؎  اور مسلمانوں کے اماموں کی ۶؎  اور عوام کی ۷؎(مسلم)
شرح
۱؎ آپ کا نام تمیم ابن اوس ابن دار ہے،آپ عیسائی تھے         ۹؁ ہجری میں ایمان لائے،آپ سے کل اٹھارہ احادیث مروی ہیں جن میں سے صرف یہ ایک حدیث صحیحین میں ہے،آپ شب کو نوافل میں ایک رکعت میں قرآن مجید ختم کرتے تھے اورکبھی ایک آیت صبح تک بار بار پڑھتے اورروتے رہتے تھے،اولًا مدینہ منورہ میں رہے،حضرت عثمان کی شہادت کے بعد شام چلے گئے وہاں ہی وفات پائی،مسجد نبوی میں سب سے پہلے چراغ آپ نے ہی روشن کیے۔(مرقات)چراغ کیا۔

۲؎  نصیحۃ بنا ہے نصح سے بمعنی خالص ہونا عرب کہتے ہیں نصحت العسل عن الشمع میں نے شہد کو موم سے خالص کرلیا۔اصطلاح میں کسی کی خالص خیر خواہی کرنا جس میں بدخواہی کا شائبہ نہ ہو یا خلوص دل سے کسی کا بھلا چاہنا نصیحت ہے،یہ بھی جامع کلمات میں سے ہے کہ اس ایک لفظ میں لاکھوں چیزیں شامل ہیں حتی کہ اعتقاد کو کفر سے خالص کرنا،عبادات کو ریا سے پاک و صاف کرنا،معاملات کو خرابیوں سے بچانا سب ہی نصیحت میں داخل ہیں۔

۳؎ اللہ کے لیے نصیحت یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کی ذات و صفات کے متعلق خالص اسلامی عقیدہ رکھنا،خلوص دل سے اس کی عبادت کرنا،اس کے محبوبوں سے محبت دشمنوں سے عداوت رکھنا،اس کے متعلق اپنے عقیدے خالص رکھنا اس کی شرح بہت وسیع ہے۔(مرقات)

۴؎  کتاب اللہ یعنی قرآن مجید کی نصیحت یہ ہے کہ اس کے کتاب اللہ ہونے پر ایمان رکھنا اس کی تلاوت کرنا،اس میں بقدر طاقت غورکرنا،اس پرصحیح عمل کرنا،اس پر سے مخالفین کے اعتراضات دفع کرنا غلط تاویلوں تحریفوں کی تردید کرنا۔

۵؎ اللہ کے رسول یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نصیحت یہ ہے کہ انہیں تمام نبیوں کا سردار ماننا ان کے تمام صفات کا اعتراف کرنا جان و مال و اولاد سے زیادہ انہیں پیارا رکھنا انکی اطاعت و فرمانبرداری کرنا ان کا ذکر بلند کرنا۔

۶؎ اماموں سے مراد یا تو اسلامی بادشاہ اسلامی حکام ہیں یا علماء دین مجتہدین کاملین اولیاء واصلین ہیں۔ان کی نصیحت یہ ہے کہ انکے ہر جائز حکم کی بقدر طاقت تعمیل کرنا،لوگوں کو ان کی اطاعت جائزہ کی طرف رغبت دینا، آئمہ مجتہدین کی تقلیدکرنا،ان کے ساتھ اچھا گمان رکھنا۔(مرقات)علماء کا ادب کرنا۔

۷؎  عام مسلمانوں کی نصیحت یہ ہے کہ بقدر طاقت ان کی خدمت کرنا،ان سے دینی و دنیا مصیبتیں دورکرنا،ان سے محبت کرنا،ان میں علم دین پھیلانا،اعمال نیک کی رغبت دینا،جو چیز اپنے لیے پسند نہ کرے ان کے لیے پسند نہ کرنا یہ حدیث بہت ہی جامع ہے۔
Flag Counter