Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
795 - 975
حدیث نمبر 795
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم تین ہو ۱؎ تو تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کرو حتی کہ تم لوگوں سے خلط ملط ہو جاؤ اس لیے کہ یہ بات اسے غمگین کرے گی ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ خواہ کسی مجلس میں تین مسلمان ہوں یا کسی راستہ پرجاتے ہوئے تین شخص ہمراہ ہوں یہاں ہمراہی اور مصاحبت مراد ہے لہذا حدیث صاف ہے۔

۲؎  یعنی اگر تین ساتھیوں میں سے دو خفیہ سرگوشی کریں گے تو تیسرے کو اندیشہ ہوگا کہ کوئی بات میرے خلاف طے کی جاوے گی میرے خلاف مشورہ کررہے ہیں،جب تین سے زیادہ آدمی ہوں تو باقی کسی کو یہ خطرہ نہ ہوگا کہ میرے خلاف سازش ہورہی ہے۔خیال رہے کہ یہ ممانعت وہاں ہے جہاں تیسرے کو اپنے متعلق یہ شبہ ہوسکتا ہو اگر یہ شبہ نہ ہو سکے تو بلاکراہت یہ عمل جائز ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھرمیں تشریف فرما تھے کہ فاطمہ زہرا حاضر ہوئیں حضور نے انہیں مرحبا کہا اور ان سے کچھ سرگوشی فرمائی۔
Flag Counter